قدیم مندروں اور مقدس مقامات کی بحالی کیلئے زائد اَز 14 کروڑ روپے مالیت کے منصوبے
جموں// لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے پُرمنڈل کے قدیم ورثے کی تجدید و بحالی اور احیائے نو کے لئے 7.15 کروڑ روپے کی لاگت والے منصوبوں اور مقدس مقام اترواہینی میں تجدید ومرمت، بحالی اور متعلقہ ترقیاتی کاموں کے لئے 6.85 کروڑ روپے مالیت کے منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا۔اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام محض اینٹوں اور پتھروں کی مرمت تک محدود نہیں بلکہ قوم کے شاندار ماضی کو ایک روشن اور تابناک مستقبل سے جوڑنے کی کوشش ہے۔اُنہوں نے ہندوستانی تہذیبی و ثقافتی اَقدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ، مقدس علوم اور دھرم پرمبنی اقدار کا تحفظ کسی بھی قوم کی لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔اُنہوںنے کہا، ’’جو قوم اپنے ورثے کو بھلا دیتی ہے وہ اَپنی بنیاد کھو دیتی ہے۔ اس کے برعکس جو قوم اپنی جڑوں کا احترام کرتی، ان کا تحفظ کرتی اور انہیں دوبارہ زندہ کرتی ہے، وہ اَپنی آنے والی نسلوں کو اعتماد، اِستقامت، خود اعتمادی اور مضبوط شناخت کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقعہ فراہم کرتی ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ مقدس دریائے دیویکا سے سرفراز پُرمنڈل صدیوں سے سنتوں، رشیوں اور روحانی متلاشیوں کی آمد کا مرکز رہا ہے ۔اِس کے قدیم مندر، پتھروں پر نقش و نگار، مقدس تالاب اور تاریخی عمارتیں شاندار فنِ تعمیر اور فنکارانہ مہارت کا شاندار نمونہ ہیں، تاہم وقت گزرنے اور عدم توجہی کے باعث ان کا بڑا حصہ متاثر ہوا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ پُرمنڈل میں قدیم لکشمی نارائن مندر، قدیم شیو مندر اور قدیم رام مندراور اترویہنی کے تاریخی مندر کمپلیکس کو جدید تحفظاتی تکنیکوں اور روایتی تعمیراتی جمالیات کے امتزاج سے بحال کیا جائے گا۔منوج سِنہا نے اِس بات پر زور دیا کہ بحالی کا یہ کام جموںوکشمیر کو روحانی اور ثقافتی سیاحت کے ایک نمایاں مرکز کے طور پر قائم کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔بہتربنیادی ڈھانچے، راستوں اور روشنی کے انتظامات سے ماتا ویشنو دیوی جی، شیو کھوڑی، رگھوناتھ مندر اور بابا امرناتھ جی کے آنے والے یاتریوںکے درشن کے لئے بہتر رابطہ سہولیات میسر ہوں گی اور ساتھ ہی ’چھوٹی کاشی‘ کے روحانی سکون تک رسائی بھی آسان ہو جائے گی۔اُنہوں نے خطے میں ہیرٹیج ٹوراِزم کے معاشی پہلو کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مقامی دستکاریوں، مہمان نوازی، ہوم سٹے، ٹرانسپورٹ اور کھانے پینے کے اِداروںکو فروغ ملے گا جس سے نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع اورکاریگروںو چھوٹے کاروباری اَفراد کے لئے نئی منڈیاں پیدا ہوں گی ۔ اُنہوں نے کہا کہ مقدس مقامات کی بحالی اور تزئین و آرائش سے آس پاس کے علاقوں کے لوگوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔لیفٹیننٹ گورنرنے کہا، ’’ان مقدس مقامات تک رسائی بہتر بنا کر اور ان کی شان عظمت و وقار کو بحال کرکے ہم ملک اور دُنیا کے مختلف حصوں سے آنے والے روحانی متلاشیوں کے لئے پُرمنڈل اور اترویہنی کے روحانی تجربے کے دروازے کھول رہے ہیں۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ اس سے مقامی معیشت کو تقویت ملے گی اور مقامی کمیونٹیوں کو بااِختیار بنایاجائے گا کیوںکہ ہر بحال شدہ اینٹ، ہر تعمیر شدہ راستہ اور یہاں آنے والا ہر سیاح خطے کے لوگوں کی معاشی خوشحالی میں براہِ راست حصہ ادا کرے گا۔‘‘اُنہوںنے اس منصوبے کی بین النسلی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہاکہ جب نوجوان پُرمنڈل اور اترویہنی کے بحال شدہ راہداریوں سے گزریں گے اور صدیوں پرانے فن اور ثقافت کے تحفظ کا مشاہدہ کریں گے، تو اس سے ان میں فخر اور اَپنی جڑوں سے مضبوط تعلق احساس پیدا ہوگا۔ اُنہوں نے ضلعی اِنتظامیہ اور اس اقدام میں شامل تمام شراکت داروں کی ستائش کی اور اُمید ظاہر کی کہ شہری آنے والی نسلوں کے لئے ان مقدس مقامات کے تحفظ اور دیکھ ریکھ میں اَپنا کردار ادا کریں گے۔
لیفٹیننٹ گورنرنے کہا، ’’آج اپنے ورثے کے تحفظ کے لئے ہماری فعال کوششیں آنے والی نسلوں کے لئے ثقافتی خود اعتمادی، اخلاقی قوت اور سماجی ہم آہنگی کی صورت میں ثمر آور ہوں گی۔ یہ ہماری نوجوان نسل کو اپنی جڑوں سے دور ہونے سے بچائیں گی اور ہماری مشترکہ ثقافت اور زندگی کی قدیم اقدار کے لئے فطری احترام کو فروغ دیں گی۔ ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے سفر میں اپنی ثقافتی شناخت کا تحفظ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ شاہراہوں، ڈیجیٹل نیٹ ورکس اور صنعتی راہداریوں کی تعمیرہے۔اُنہوںنے پُر منڈل اور اترویہنی کے لئے سڑک رابطے کو مضبوط اور بہتر بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔اُنہوں نے پُرمنڈل میں ’ماتا دیویکا وید پاٹھ شالہ‘ کے قیام کے لئے زمین فراہم کرنے پر ضلع انتظامیہ سانبہ کی کوششوں کو بھی سراہا۔اُنہوں نے کہا کہ وید پاٹھ شالہ کی تعمیر کے لئے فنڈز جلد ہی شری ماتا ویشنو دیوی شرائین بورڈ کے ذریعے جلد منظور کئے جائیں گے۔اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے جی سی سی گُرہا سلاتھیہ میگزین کا بھی اجرأ کیا۔سنگ بنیاد کی تقریب میں رُکن اسمبلی وِجے پور چندر پرکاش گنگا، پرنسپل سیکرٹری محکمہ ثقافت برج موہن شرما، صوبائی کمشنر جموں رمیش کمار، آئی جی پی جموں تیجندر سنگھ، ڈِی آئی جی جے ایس کے رینج شریدھر پاٹل،ضلع ترقیاتی کمشنر سانبہ آیوشی سوڈان، ڈائریکٹر آرکائیوز، آرکیالوجی اینڈ میوزیمز کے کے سدھا،صدر ویشو ہندو پریشد جموں و کشمیر راجیش گپتا، صدردھرمارتھ ٹرسٹ ڈاکٹر پی ایس پٹھانیہ، سینئر اَفسران، مذہبی رہنما، ممتازشہری، نوجوان اور بڑی تعداد میں عقیدت مند سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب میں موجود تھے۔










