انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے غیرجانبدار ماہر برنارڈ ڈوہائم نے جنیوا میں کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ عرصہ میں دنیا کے بہت سے حکومتی عہدیداروں، سیاست دانوں اور دیگر حلقوں کی جانب سے تاریخ اور انسانیت کے خلاف جرائم سے انکار پر مبنی بیانات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
رکن ممالک کو انسانیت کے خلاف جرائم کے ذمہ دار افراد کی تعریف و توصیف کی کسی بھی کوشش کا فعال طور پر مقابلہ کرنا چاہیے۔ بالخصوص ایسے وقت میں یہ اور بھی ضروری ہو گیا ہے جب سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے نظام انکاری بیانیوں کو مزید پھیلا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ دور حاضر میں نظریاتی انتہا پسند اور جنگ کے حامی عناصر اپنے سیاسی مفادات کے لیے معاشرے میں تقسیم، نفرت اور انتشار کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ انہیں انسانی حقوق، جواب دہی اور قانون کی حکمرانی کے لیے اجتماعی عزم کی یاد دہانی کرائی جائے۔
آزادی اظہار کا ناجائز استعمال
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے برنارڈ ڈوہائم کو انسانیت کے خلاف جرائم کے حوالے سے سچائی، انصاف، متاثرین کے لیے تلافی اور ایسے جرائم کا ارتکاب روکنے کے حق میں کام کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔
انہوں نے کونسل کو اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے تمام ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے سیاست دانوں اور کاروباری اداروں سے وابستہ عناصر کے حوالے سے چوکس رہیں جو اظہار رائے کی آزادی کو اپنے مقاصد کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے اور سیاسی یا دیگر نظریاتی مفادات کے لیے تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے، تشدد کو ہوا دیتے اور اختلافی آوازوں کو خاموش کراتے ہیں۔
ڈوہائم نے کہا کہ انکاری سیاست کو کمزور اور متاثرہ طبقات کے لیے انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ رجحان جذباتی بیانیوں کے ذریعے سچائی کی جگہ لینے کی کوشش کرتا ہے جس سے جمہوری ادارے اور جوابدہی کا نظام کمزور پڑنے کا خطرہ ہے۔ اگرچہ انکاری سیاست کے حامیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومتی نگرانی انتہائی اہم ہے، تاہم بہت سے معاملات میں ملکی قوانین بھی پابندی اور انکار کے ہتھیار بن چکے ہیں۔
ڈوہائم نے کونسل پر زور دیا کہ انکاری سیاست کا مقابلہ کرنے کی کوشش کو سنسرشپ یا جبر کے لیے بہانے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار
غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔










