نئی دہلی/یواین آئی// مرکزی وزیر خزانہ و کارپوریٹ امور نرملا سیتارمن نے گزشتہ روز امریکہ کے شہر نیویارک میں سرمایہ کاروں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطح کے گول میز اجلاس میں شرکت کی اور انہیں بھارتی معیشت کی بنیادی طاقتوں سے روشناس کراتے ہوئے ملک میں کاروبار کے وسیع مواقع اور کاروبار کرنے میں آسانی کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔وزارت خزانہ نے جمعرات کو بتایا کہ اس اجلاس کا انعقاد نیویارک میں واقع ہندوستانی قونصل خانے نے بینک آف امریکہ، نیویارک کے تعاون سے کیا تھا۔ سرمایہ کاروں سے خطاب کرتے ہوئے سیتارمن نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بھارتی معیشت کی حقیقی شرح نمو 7.8 فیصد رہنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر جاری رکاوٹوں اور متعدد چیلنجز کے باوجود ہندوستان دنیا کی بڑی معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت بنا ہوا ہے ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں مضبوط اصلاحاتی نقطئہ نظر کے ساتھ ہندوستان نے متعدد اصلاحات کے ذریعے ضابطہ جاتی نظام میں زیادہ یقین دہانی پیدا کی ہے ۔ ان اصلاحات میں دیوالیہ پن اور دیوالیہ پن سے متعلق ضابطہ بھی شامل ہے ۔ ان اصلاحات نے قوانین کی تعمیل کو آسان بنانے اور کاغذی کارروائی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک دہائیسے زیادہ عرصہ قبل مرکزی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے قوانین کی تعمیل کو آسان بنانا اور کاغذی کارروائی کم کرنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل رہا ہے ۔سیتارمن نے کہا کہ حکومت نے جن اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی ہے ، ان میں سرمایہ جاتی اثاثوں کی تعمیر، بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ذریعے صنعت کو مسلسل تعاون فراہم کرنا، خاص طور پر ہوا بازی کے شعبے میں، سرمایہ کاری کے لیے سازگار اور مثبت ماحول کو فروغ دینا، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیٹا سینٹروں کی ترقی کی حوصلہ افزائی کرنا، گلوبل کیپبیلٹی سینٹرز (جی سی سی) کی حمایت کرنا، ایم ایس ایم ای (چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں) کے لیے قرضوں کی دستیابی یقینی بنانا اور بینکوں کے پھنسے ہوئے اثاثوں (وصولی میں رکی ہوئی رقوم) کو کم کرنا شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے بینکوں اور صنعتوں کے لیے زیادہ مؤثر کاروباری ماحول تیار کرنے میں مدد ملی ہے ، جس سے وہ بہتر انداز میں کام کرنے ، ترقی کرنے اور مزید مضبوط ہو کر ابھرنے کے قابل ہوئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ کووڈ19 کے بعد سے عالمی معیشت کو درپیش مسلسل چیلنجز کے باوجود ہندوستان گزشتہ کئی برسوں سے مالیاتی احتیاط اور مالیاتی نظم و ضبط کی راہ پر مستقل عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ۔










