اترپردیش میں سیلاب کی صورتحال سنگین،3 افراد ہلاک

اترپردیش میں سیلاب کی صورتحال سنگین،3 افراد ہلاک

لکھنؤ/ ایجنسیز// اتر پردیش کے کئی حصوں میں سیلابی صورتِ حال اور گنگا سمیت مختلف دریاؤں کی سطح آپ میں اضافہ نے انتظامیہ کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔بارش سے متعلقہ واقعات میں اب تک 3 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ پرتاپ گڑھ میں 18 ماہ کا پریانش، اور امروہہ کے گجرولا میں شیرا (32) اور سریش (55) شامل ہیں۔ وارانسی میں گنگا کی سطح وارننگ لیول سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ غازی پور میں دریا خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہا ہے۔مرکزی آبی کمیشن کے مطابق وارانسی کے راج گھاٹ گیج سائٹ پر جمعرات کی صبح 6 بجے گنگا کا پانی 70.54 میٹر ریکارڈ کیا گیا جو وارننگ لیول 70.262 میٹر سے زیادہ ہے۔ پانی کی سطح میں ہر گھنٹے تقریباً 2 سنٹی میٹر کی رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے۔ راج گھاٹ پر گنگا کا خطرے کا نشان 71.262 میٹر ہے، جبکہ اب تک کی بلند ترین سیلابی سطح 73.901 میٹر درج کی گئی ہے۔گنگا کے بڑھتے پانی کے باعث وارانسی کے کئی گھاٹ اور نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ متاثرہ علاقوں میں صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ضلع مجسٹریٹ نے حکام کو ہائی الرٹ رہنے اور متاثرہ علاقوں کی مسلسل نگرانی کی ہدایت دی۔ انہوں نے ضرورت پڑنے پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کیلئے پیشگی انتظامات، کشتیوں اور دیگر امدادی وسائل کی دستیابی یقینی بنانے کو کہا۔ پولیس اور این ڈی آر ایف اہلکاروں کو بھی ہنگامی صورتِ حال میں فوری کارروائی اور مسلسل نگرانی کی ہدایت دی گئی ہے۔سیلاب متاثرین کیلئے قائم ریلیف کیمپوں میں خوراک، پینے کا پانی، بجلی، روشنی، صفائی، طبی سہولیات اور سکیورٹی کا جائزہ بھی لیا گیا۔ بچوں، خواتین اور بزرگوں پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ طبی ٹیموں کو باقاعدگی سے صحت کا معائنہ کرنے اور ضروری ادویات دستیاب رکھنے کو کہا گیا ہے۔دوسری جانب ریاست کے مجموعی سیلابی منظرنامے کے مطابق اب تک 35 اضلاع متاثر ہوئے ہیں، جبکہ فی الحال 23 اضلاع میں سیلاب کا اثر برقرار ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 16,784 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جن میں 3,042 افراد کو چہارشنبہ کے روز نکالا گیا۔ریلیف اور ریسکیو آپریشن کیلئے ریاست میں 1,499 کشتیاں اور موٹر بوٹس جبکہ 1,067 طبی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ حکومت نے 1,311 سیلاب ریلیف کیمپ قائم کیے ہیں، جن میں سے 201 اس وقت فعال ہیں۔ سیلاب سے مکانات کو پہنچنے والے نقصان کے 442 معاملات میں بھی امداد فراہم کی گئی ہے، جبکہ 36,287 مویشی متاثر ہوئے ہیں۔