aga ruhullah

’ ڈاکٹر صاحب کو خالی ہاتھ واپس نہیں بھیج سکتا‘

فاروق عبداللہ کے استعفے کے مطالبے پر رکن پارلیمنٹ روح اللہ کا طنزیہ ردعمل

سرینگر//یو این ایس / نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی جانب سے سرینگر کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی کو لوک سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دے کر عوام سے دوبارہ مینڈیٹ حاصل کرنے کے چیلنج کے ایک روز بعد روح اللہ نے کہا ہے کہ وہ آنے والے چند دنوں میں اس معاملے پر اپنا جواب دیں گے۔نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے آغا روح اللہ نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے استعفے کے مطالبے پر براہ راست یہ نہیں بتایا کہ وہ اسے قبول کریں گے یا نہیں، تاہم ان کے بیان سے ظاہر ہوا کہ وہ اس مطالبے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’یہ ممکن نہیں کہ ڈاکٹر صاحب مجھ سے کوئی چیز مانگیں اور میں انہیں وہ نہ دوں۔ یہ ممکن نہیں کہ میں انہیں خالی ہاتھ واپس بھیج دوں۔‘‘روح اللہ نے مزید کہا کہ ’’ڈاکٹر صاحب نے اس عمر میں مجھ سے کچھ مانگا ہے، میں ان کا احترام کرتا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ مجھ سے کچھ مانگیں اور میں انہیں خالی ہاتھ واپس بھیج دوں۔‘‘انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر چند دنوں میں جواب دیں گے۔یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے روح اللہ کو عوامی طور پر چیلنج دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر انہیں یقین ہے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ان کی کامیابی بنیادی طور پر ان کی ذاتی سیاسی حیثیت کی وجہ سے ہوئی ہے تو وہ پارلیمنٹ سے استعفیٰ دے کر دوبارہ عوام کے پاس جائیں۔فاروق عبداللہ نے کہا تھا کہ اگر انہیں لگتا ہے کہ لوگوں نے صرف انہیں ووٹ دیا ہے تو وہ استعفیٰ دیں اور دوبارہ انتخاب لڑیں، پھر دیکھا جائے گا کہ انہیں کتنے ووٹ ملتے ہیں۔دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ بیان بازی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آغا روح اللہ اور نیشنل کانفرنس کی قیادت کے درمیان پارٹی کی سیاسی حکمت عملی، بالخصوص دفعہ 370 کی بحالی، ریاستی درجے اور جموں و کشمیر کے آئینی حقوق جیسے معاملات پر اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں۔فاروق عبداللہ نے کہا تھا کہ روح اللہ پارلیمنٹ میں دفعہ 370 کا معاملہ اٹھانے کے لیے آزاد ہیں، تاہم انہوں نے اس مسئلے پر ان کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا تھا۔ نیشنل کانفرنس صدر نے پارٹی تنظیم اور نظم و ضبط کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے والے امیدواروں کو تنظیم اور کارکنوں کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔دوسری جانب آغا روح اللہ مسلسل یہ موقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ ان کی سیاسی جدوجہد عوام کی جانب سے دیے گئے مینڈیٹ کی عکاسی کرتی ہے اور جموں و کشمیر کے آئینی حقوق کی بحالی کی لڑائی ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے۔انہوں نے حالیہ دنوں میں یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ وہ آئینی حقوق اور تحفظات سے متعلق اپنی مہم کو ایک خاص مرحلے تک پہنچانے کے بعد پارلیمنٹ سے استعفیٰ دینے پر غور کر سکتے ہیں۔دریں اثنا، کشمیری پنڈتوں سے متعلق مقدمات دوبارہ کھولے جانے کے سوال پر آغا روح اللہ نے کہا کہ انصاف ضرور ملنا چاہیے، تاہم انصاف کے نام پر انتقام نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کے معاملات میں انصاف فراہم کیا جانا ضروری ہے، لیکن اس عمل کو کسی سے بدلہ لینے کا ذریعہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔