راج پورہ حلقہ میں 14 پانی فلٹریشن پلانٹس کی مرمت کیلئے 2.75 کروڑ روپے کا اعلان
پلوامہ//وزیر برائے جل شکتی ، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امور مسٹر جاوید احمد رانا نے کہا کہ جنگلاتی حقوق ایکٹ ( ایف آر اے ) 2006 قبائلی فلاح و بہبود اور روز گار میں اضافے کا ایک اہم محرک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس ایکٹ پر موثر عمل درآمد جنگلات میں رہنے والی قبائلی برادریوں کو بااختیار بنانے ، ان کے جائیز حقوق کے تحفظ اور پائیدار روز گار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے ضروری ہے ۔ انہوں نے یہ بات آج سنگر وانی ، راج پورہ ، پلوامہ میں جنگلاتی حقوق ایکٹ 2006 پر منعقدہ قبائلی کنونشن میں شرکت کرتے ہوئے کہی ۔ جہاں انہوں نے مقامی لوگوں سے بات چیت بھی کی اور ان کی شکایات سنیں ۔ اس موقع پر ایم ایل اے راج پورہ غلام محی الدین میر ، ایم ایل اے پامپور حسنین مسعودی ، سابق قانون ساز محمد خلیل بندھ اور ضلعی انتظامیہ کے افسران بھی موجود تھے ۔ کنونشن کا مرکز جنگلاتی حقوق ایکٹ کی دفعات کے بارے میں زیادہ بیداری پیدا کرنا اور اس کے موثر نفاذ میں کمیونٹی کی شرکت کو مضبوط بنانا تھا ۔ کنونشن میں مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے جنہوں نے مختلف شعبہ جاتی اور ترقیاتی مطالبات اٹھائے اور وزیر کی مداخلت طلب کی ۔ لوگوں نے پانی کے فلٹریشن پلانٹس میں اضافہ اور اپ گریڈیشن کے مسائل کو اجاگر کیا ۔ انہوں نے صحت کی دیکھ بھال اور تعلیمی انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنے کا مطالبہ کیا جس میں موجودہ سہولیات میں بہتری اور مقامی آبادی کیلئے بہتر خدمات کی فراہمی شامل ہے ۔ لوگوں نے سڑک کے انفراسٹرکچر کی بہتری اور اپ گریڈیشن کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے یقین دلایا کہ حکومت بنیادی انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنے اور عوامی خدمات کو بہتر بنانے کیلئے پرعزم ہے ۔ وزیر موصوف نے پینے کے پانی سے متعلق خدشات پر ردِ عمل دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو راجپورہ حلقے میں 14 فلٹریشن پلانٹس کی بہتری اور تجدید کا حکم دیا ۔ انہوں نے پانی کی فلٹریشن پلانٹس کی تجدید و بہتری کیلئے 2.75 کروڑ روپے کا اعلان کیا جس کا مقصد پانی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور مقامی آبادی کو محفوظ اور معیاری پینے کے پانی تک بہتر رسائی یقینی بنانا ہے ۔ انہوں نے سوئل کنزرویشن ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت دی کہ سنگروانی علاقے میں مٹی کے تحفظ اور متعلقہ ترقیاتی کاموں کیلئے ایک کروڑ روپے کی تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ ( ڈی پی آر ) تیار کرے ۔
وزیر نے کہا کہ سنگروانی کو جنگلاتی حقوق ایکٹ ( ایف آر اے ) 2006 کے تحت ایکٹ کی دفعات کے مطابق فاریسٹ ولیج کے طور پر ترقی دی جائے گی ۔ انہوں نے مزید اعلان کیا کہ سنگروانی کو سیاحت کے نقشے پر لانے اور اسے ایک ماڈل قبائلی سیاحتی گاؤں کے طور پر ترقی دینے کی کوششیں کی جائیں گی جہاں اس کی قدرتی خوبصورتی ، قبائلی ورثہ ، ثقافت اور روائتی طرزِ زندگی کو پیش کیا جائے گا ۔










