سیول/ایجنسیز//مشرق وسطیٰ کی جنگ سے عالمی بحری تجارت متاثر ہونے کے بعد جنوبی کوریا ہفتہ کو پہلی بار آزمائشی طور پر ایک کنٹینر جہاز آرکٹک کے راستے یورپ بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ تاہم ماحولیاتی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اس راستے کا بڑھتا استعمال قطبی برف کے پگھلاؤ کو مزید تیز کر سکتا ہے۔ فروری میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والے مشرق وسطیٰ کے تنازعہ نے عالمی بحری تجارت کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث حکومتیں اور شپنگ کمپنیاں متبادل راستوں کی تلاش میں ہیں۔ بوسان نیو پورٹ سے روانہ ہونے والا کنٹینر جہاز ’’پین اسٹار ایکرو‘‘ آرکٹک کے راستے یورپ جائے گا۔ اس سفر کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ سمندری برف پگھلنے کے نتیجے میں کھلنے والے اس راستے کو تجارتی بنیادوں پر استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ جنوبی کوریا کی وزارت سمندری امور کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ خراب موسم جیسی کوئی غیر متوقع صورت حال پیش نہ آئی تو یہ جہاز ہفتہ کو رات 8 بجے روانہ ہو گا۔ وزارت کے مطابق جہاز برطانیہ کی بندرگاہ فیلکس اسٹو، نیدرلینڈز کے روٹرڈیم اور پولینڈ کے گدانسک جائے گا اور پھر واپس لوٹے گا۔ پورے سفر میں تقریباً 45 دن لگنے کی توقع ہے۔










