کیلیفورنیا/یو این آئی// امریکی ریاست کیلیفورنیا کی سینیٹر عائشہ وہاب نے سابق رکن کانگریس ایرک سویل کی خالی نشست پر خصوصی انتخاب جیت لیا ، جبکہ انتخاب کے آخری مرحلے میں اسرائیل نواز گروپوں سے ان کے خلاف لاکھوں ڈالر خرچ کیے گئے تھے ۔امریکی میڈیا کے مطابق ترقی پسند ڈیموکریٹ عائشہ وہاب نے اپنی حریف اور ڈیموکریٹ میلیسا ہرنانڈیز کو شکست دی ۔ وہ اب کیلیفورنیا کے 14ویں کانگریشنل ضلع کی نمائندگی کریں گی ۔ وہ سابق رکن کانگریس ایرک سویل کی مدتِ رکنیت جنوری تک مکمل کریں گی۔عائشہ وہاب نے اپنی کامیابی کے بعد کہا کہ یہ فتح ظاہر کرتی ہے کہ ان کا حلقہ خریدا نہیں جا سکتا’۔وہاب کیلیفورنیا کی ریاستی قانون ساز اسمبلی میں اقتصادی اور سماجی انصاف کے مسائل کی طویل عرصہ سے حمایت کرتی رہی ہیں اور وہ امریکی کانگریس کی پہلی افغان نژاد امریکی رکن بن رہی ہیں۔یہ انتخاب ایرک سویل کے اپریل میں استعفے کے بعد ہوا تھا۔عائشہ وہاب نے غزہ میں جنگ کے حوالے سے اسرائیل پر شدید تنقید کی ہے ۔ گزشتہ سال انہوں نے ایک ریاستی قرارداد کی مشترکہ تیاری کی تھی جس میں غزہ کے ہولناک انسانی بحران کی مذمت اور جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اپریل میں ایک انتخابی فورم میں انہوں نے اس سوال کا جواب بھی ہاں میں دیا تھا کہ آیا وہ غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ واقعات کو نسل کشی سمجھتی ہیں۔اس کے مقابلے میں ہرنانڈیز نے براہ راست جواب سے گریز کیا اور کہا تھا کہ اسرائیل کو دفاع کا حق ہے ، تاہم غزہ میں تباہی ‘حد سے آگے جا چکی ہے ۔جون میں پرائمری انتخاب میں وہاب نے 42 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کیے جبکہ ہرنانڈیز کو 17 فیصد ووٹ ملے تھے ۔تاہم بعد میں مقابلہ سخت ہوگیا۔ اسرائیل نواز گروپ یونائیٹڈ ڈیموکریسی پروجیکٹ نے اگست کے آغاز سے ہرنانڈیز کی حمایت میں تقریباً 25 لاکھ ڈالر خرچ کیے ، جبکہ ایک اور گروپ بولڈ امریکہ نے تقریباً 19 لاکھ ڈالر خرچ کیے ۔










