جمعیۃ علماء نے سیلاب متاثرین کیلئے2 کروڑ 25 لاکھ روپئے مختص کئے

نئی دہلی؍آسام/یو این آئی// بالائی آسام میں تباہ کن سیلاب سے متاثر ہونے والے ہزاروں افراد اور خاندانوں کی فوری امداد اور مستقل بازآبادکاری کیلئے جمعیۃ علماء ہند اور جمعیۃ علماء آسام کی جانب سے بڑے پیمانے پر امدادی و بازآبادکاری مہم جاری ہے ۔ یہ مہم صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی خصوصی ہدایت و سرپرستی اور صدر جمعیۃ علماء آسام مولانا مشتاق عنفر کی نگرانی میں سیلاب کے ابتدائی دنوں ہی سے جاری ہے ۔ اس جامع مہم کے تحت غذائی اور گھریلو اشیاء کی فراہمی کے ساتھ متاثرہ علاقوں کا گھر گھر سروے ، نقصانات کی درجہ بندی، مستحق خاندانوں کو براہِ راست مالی تعاون، جاں بحق افراد کے اہلخانہ کی خصوصی مدد، یتیم بچوں کی تعلیمی کفالت اور متاثرہ خاندانوں کی مستقل بازآبادکاری کا کام کیا جارہا ہے ۔ بالائی آسام کے سیلاب نے بڑی تعداد میں خاندانوں کو شدید متاثر کیا ہے ۔ متعدد مکانات، گھریلو سامان اور ذرائع معاش تباہ ہوگئے ہیں جس کے نتیجہ میں متاثرین کے سامنے فوری ریلیف کے ساتھ مستقبل کی بازآبادکاری کا بھی سنگین مسئلہ پیدا ہوگیا ہے ۔ صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے بالائی آسام میں سیلاب سے ہونے والی تباہی پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم مالکِ کائنات کے بندے ہیں اور اس کے ہر فیصلے پر سرِ تسلیم خم کرتے ہیں کیونکہ بندگی کا تقاضا یہی ہے ۔ وہی ہر پریشانی کا حقیقی مداوا کرنے والا ہے تاہم اسباب کے درجے میں جمعیۃ علماء ہند اس کے خدام اور اس کی شاخیں متاثرین کی مدد میں مصروف ہیں۔ مولانا مدنی نے کہا کہ کوئی مصیبت یہ پوچھ کر نہیں آتی کہ کون ہندو ہے اور کون مسلمان بلکہ قدرتی آفت آتی ہے تو سب کو اپنی زد میں لیتی ہے۔ بالائی آسام کے متاثرین میں بھی مختلف مذاہب، ذاتوں اور برادریوں کے لوگ شامل ہیں اور جمعیۃ علماء ہند بلا تفریق مذہب و ملت سب کی مدد کررہی ہے۔