نئی دہلی/ایجنسیز//دہلی میں 20 جولائی کو طلبہ کے احتجاج اور پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے معاملے میں دہلی پولیس نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب داخل کیا ہے۔ پولیس نے مظاہرین پر ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالات قابو سے باہر ہونے کے بعد ہی طاقت کا استعمال کیا گیا۔ سپریم کورٹ میں آج اس معاملے کی سماعت سے قبل دہلی پولیس نے اپنا حلف نامہ داخل کیا۔ پولیس نے بتایا کہ اس روز جنتر منتر کے آس پاس تقریباً 30 ہزار افراد موجود تھے۔ بھیڑ تقریباً 3 کلومیٹر کے علاقے میں پھیلی ہوئی تھی اور اسے سنبھالنے کے لیے تقریباً 5 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔پولیس کے مطابق احتجاج کی شروعات پْرامن تھی لیکن بعد میں کچھ افراد نے مختلف مقامات پر بیریکیڈ توڑ کر پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے کی کوشش کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے بعد حالات قابو سے باہر ہوگئے اور پولیس و مظاہرین کے درمیان دھکامکی اور جھڑپ شروع ہوگئی۔ دہلی پولیس نے بتایا کہ اس دوران 240 سے زائد پولیس اہلکار اور دیگر سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ تقریباً 200 مظاہرین کو بھی چوٹیں آئیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بھیڑ کو روکنے کے لیے بتدریج اور ضرورت کے مطابق طاقت کا استعمال کیا گیا۔ پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ احتجاج میں کچھ ایسے افراد شامل ہوگئے تھے جن کے خلاف پہلے سے مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔ پولیس کے مطابق تقریباً 2,873 افراد کے خلاف قتل، اقدام قتل، لوٹ، عصمت دری اور پوکسو ایکٹ جیسے معاملات میں مقدمات درج ہیں۔ پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوئی اجازت نہیں دی گئی تھی لہذا پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے کی کوشش غیر قانونی تھی۔ پولیس نے یہ بھی کہا کہ درخواستوں میں کچھ منتخب تصاویر، نامکمل ویڈیوز اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی خبروں کی بنیاد پر پولیس پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ احتجاج کے دوران نوکیلی کیل والی لاٹھی استعمال کیے جانے کے الزام پر پولیس نے کہا کہ ویڈیو میں ایسا ایک واقعہ ضرور دکھائی دیتا ہے لیکن وہ لاٹھی پولیس اہلکار کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ایک احتجاجی کے ہاتھ میں تھی۔پولیس نے احتجاج کے دوران سادہ لباس میں موجود اہلکاروں کے حوالے سے کہا کہ انہیں بھیڑ کے درمیان نگرانی کرنے اور حالات کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔پولیس نے کہا کہ بڑے پروگراموں کے دوران اس طرح کا انتظام پہلے بھی کیا جاتا رہا ہے۔دہلی پولیس نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ پولیس کی کارروائی اور طاقت کے استعمال کی تحقیقات کے لیے کوئی کمیٹی تشکیل دیتا ہے تو پولیس اس کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔










