پی ایم ماترو وندنا یوجنا کے تحت 4 لاکھ درخواستیں موصول

آدھار اور بینک تصدیق کے مسائل سے 3,534 مستحق خواتین ادائیگی سے محروم

سرینگر// یو این ایس/جموں و کشمیر میں یکم اپریل 2023 سے شروع کیے گئے نئے ڈیجیٹل نظام کے تحت پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا کے لیے مجموعی طور پر 4 لاکھ 34 ہزار 543 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 3 لاکھ 88 ہزار 171 درخواستوں کو منظوری دی گئی، جبکہ 32 ہزار 958 درخواستیں مسترد کی گئیں۔ یہ معلومات جمعہ کو پارلیمنٹ میں پیش کی گئیں۔لوک سبھا میں ایک غیر ستارہ شدہ سوال کے تحریری جواب میں خواتین و اطفال کی بہبود کی مرکزی وزیر مملکت ساوتری ٹھاکر نے بتایا کہ یکم اپریل 2023 سے اس اسکیم کو مکمل طور پر کاغذ سے پاک ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقل کیا گیا تاکہ درخواستوں کی منظوری کے عمل کو تیز، شفاف اور ادائیگیوں میں ناکامی کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔پارلیمنٹ میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں 2023-24 کے دوران 14 ہزار 793، سال 2024-25 میں ایک لاکھ 83 ہزار 102، سال 2025-26 میں ایک لاکھ 33 ہزار 559 اور مالی سال 2026-27 میں 5 اگست تک 56 ہزار 717 درخواستیں منظور کی گئیں۔مرکزی حکومت نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں 3 ہزار 534 مستحق خواتین اب بھی زچگی وظیفہ حاصل نہیں کر سکیں۔ ان میں سے ایک ہزار 576 خواتین کی ادائیگی اس لیے رکی ہوئی ہے کیونکہ ان کا آدھار نمبر نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا -سے منسلک نہیں ہے، جبکہ ایک ہزار 958 خواتین کی ادائیگی آدھار بایومیٹرک تصدیق کامیاب نہ ہونے کی وجہ سے زیر التوا ہے۔وزارت نے واضح کیا کہ درخواستیں صرف اسی صورت میں مسترد کی جاتی ہیں جب درخواست گزار اسکیم کی شرائط پر پورا نہ اترتے ہوں، مطلوبہ دستاویزات غلط جمع کرائیں یا پہلے ہی اسکیم کے تحت مکمل فائدہ حاصل کر چکے ہوں۔ وزارت کے مطابق آدھار سے متعلق زیر التوا معاملات کا سال وار ریکارڈ نہیں رکھا جاتا کیونکہ تصدیق مکمل ہوتے ہی متعلقہ درخواست گزار کو اس فہرست سے خارج کر دیا جاتا ہے۔وزیر مملکت نے بتایا کہ حکومت نے مستحق خواتین کو تکنیکی یا ڈیجیٹل رکاوٹوں کی وجہ سے اسکیم سے محروم ہونے سے بچانے کے لیے متعدد اصلاحات نافذ کی ہیں۔