وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے راجوری میں سیلاب کے بعد کے جائزے کے دوران اِمداد اورباز آباد کاری میں بہتری کی یقین دہانی کی

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے راجوری میں سیلاب کے بعد کے جائزے کے دوران اِمداد اورباز آباد کاری میں بہتری کی یقین دہانی کی

راجوری//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے راجوری میں حالیہ سیلاب کے بعد جاری اِمدادی، بحالی اور بازآبادکاری کے اقدامات کا جائزہ لیا اور ضلعی اِنتظامیہ و متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ وہ بحالی کے کاموں میں تیزی لائیں، متاثرہ کنبوں کی بازآبادکاری کو مزید مؤثر بنائیں اورحساس علاقوں کو محفوظ بنانے کے لئے طویل المدتی اَقدامات کئے جائیں۔وزیراعلیٰ نے اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں گزشتہ چند برسوں کے دوران آفاتِ سماوی بالخصوص بادل پھٹنے اور اچانک سیلاب کے واقعات میں اِضافہ ہوا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ محکمہ موسمیات بارش کی پیش گوئی اور بروقت ایڈوائزری جاری کرتا ہے، تاہم بادل پھٹنے کی صحیح جگہ کا درست انداز ہ لگانا اَب بھی ایک بڑا چیلنج ہے جس کے باعث مخصوص علاقوں میں مکمل تیاری ممکن نہیں ہو پاتی۔اُنہوںنے ضلعی اِنتظامیہ راجوری کی بروقت ایڈوائزری جاری کرنے اورحساس مقامات پر پیشگی طور پر اَفرادی قوت اور مشینری کو تعینات کرنے کے اقدامات کو سراہا جس سے جانی نقصان کو کم کرنے میں مدد ملی۔اُنہوں نے آفت کے فوری بعدکئے گئے اِمدادی، بچاؤ، راحت اور انخلأ کی کاررِوائیوں کی بھی سراہنا کی۔وزیراعلیٰ نے متاثرہ کنبوں کے لئے اِمداد میں اِضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ اِمدادی رقم تعمیر نو اور بازآبادکاری کے اَخراجات پورے کرنے کے لئے ناکافی ہے۔ اُنہوں نے یقین دِلایا کہ جموں و کشمیر حکومت اِمدادی رقم میں اِضافہ کرے گی اور بالخصوص پر ان کنبوں کو جامع بازآبادکاری پیکیج فراہم کرے گی جن کے مکانات تباہ ہو گئے ہیں یا جو اَپنی زرعی زمین سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔اُنہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری کو مناسب سرکاری اراضی کی نشاندہی کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ جن کنبوںنے اَپنے گھر اور زرعی اراضی دونوں کھو دی ہیں انہیں بازآبادکاری کے لئے پانچ مرلہ اراضی فراہم کی جائے۔ اُنہوں نے اِنتظامیہ کو مزید ہدایت دی کہ ایسے کنبوں کو فوری طور پر خصوصی مفت راشن فراہم کیا جائے۔اُنہوں نے بحالی کے کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ راجوری اور پونچھ کے درمیان 33 کے وِی بجلی کی ٹرانسمیشن لائن کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے جس سے بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ اُنہوں نے محکمہ بجلی کی جانب سے عارضی بحالی کے اَقدامات کو سراہتے ہوئے متعلقہ حکام کو مستقل بحالی کا کام جلد اَز جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی۔وزیراعلیٰ نے پینے کے صاف پانی کی بحالی میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ اِی) کے اہم کردار کو اُجاگر کرتے ہوئے محکمہ کو ہدایت دی کہ جہاں ممکن ہو وہاں ہینڈ پمپ نصب کرنے کی تجاویز پیش کی جائیں تاکہ متاثرہ علاقوں میں پینے کے پانی کی مستقل اور قابلِ اعتماد فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔اُنہوں نے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کے بارے میں کہا کہ پہاڑی او رکوہستانی علاقوں کی سڑکوں کے لئے خصوصی اور مضبوط اِنجینئرنگ ڈیزائن اِپنانے کی ضرورت ہے جو آفاتِ سماوی کا بہتر طور پر مقابلہ کر سکیں۔ اُنہوں نے کہا کہ میدانی علاقوں کے لئے موزوں ڈیزائن کو پہاڑی علاقوں میں نہیں اَپنایا جا سکتا۔اُنہوں نے محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈِی) کو ہدایت دی کہ آفات سے محفوظ سڑکوں کی تعمیر کے لئے تجاویز پیش کی جائیں۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی ہدایت دِی کہ راجوری میں ایک منی سیکرٹریٹ کی تعمیر کی تجویز تیار کرکے پیش کی جائے۔ اُنہوں نے اِنتظامیہ سے کہا کہ محکموں کے مجوزہ کمپلیکس میں منتقل ہونے کے بعد خالی ہونے والی سرکاری دفتری عمارتوں کو مالی طور پر بروئے کار لانے کے اِمکانات تلاش کئے جائیں۔اُنہوں نے دریاؤں کے کناروں پر تعمیرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شدید موسمی حالات کے دوران دریا قدرتی طور پر اَپنا راستہ دوبارہ اِختیار کر لیتے ہیں۔ اس لئے مستقبل میں ایسے حساس علاقوں میں تعمیرات کی اِجازت نہیں دی جائے گی۔ اُنہوں نے یہ بھی یقین دِلایا کہ متبادل بس سٹینڈ، جل شکتی کی بحالی اور دیگر اہم عوامی بنیادی ڈھانچے سے متعلق معاملات پر ہمدردانہ غور کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ضلعی اِنتظامیہ اور تمام متعلقہ محکموں کی مربوط کوششوں کو سراہتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ اسی جذبے کے ساتھ کام جاری رکھیں اوراور اِس بات کو یقینی بنائیں کہ مستقبل میں ایسی آفاتِ سماوی کے اثرات کو کم سے کم کرنے کے لئے تمام ضروری حفاظتی اور تدارکی وتخفیفی اَقدامات پر عمل درآمد کیا جائے۔میٹنگ میں ممبر اسمبلی راجوری افتخار احمد، رُکن اسمبلی تھنہ منڈی مظفر اِقبال خان، ایم ایل اے بدھل جاوید اِقبال چودھری، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا،ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری ابھیشیک شرما، ایس ایس پی راجوری گورو سیکروار، اے ڈِی ڈِی سی راجوری ملک زادہ شیراز الحق، اے ڈِی سی راجوری روی کمار سیہاگ اور دیگر سینئر اَفسران نے شرکت کی۔