دفاعی شعبے میں سائبر ٹیکنالوجی اور تحقیق کے فروغ کی ضرورت قرار// راجناتھ سنگھ
سرینگر// مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستان کو مستقبل کے سکیورٹی اور تکنیکی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے فوجی اور سول اداروں کے درمیان مزید مضبوط اشتراک، باہمی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی انضمام کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور کی جنگیں صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہیں بلکہ سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، خلائی ٹیکنالوجی، الیکٹرانک وارفیئر اور جدید دفاعی نظام اس کا لازمی حصہ بن چکے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔یو این ایس کے مطابق آرمڈ فورسز ہیڈکوارٹرز (اے ایف ایچ کیو) سولین سروسز کے یومِ تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ فوجی اور سول افسران دونوں کا بنیادی نصب العین “قوم پہلے” ہے۔ جب مقصد ایک ہو تو اداروں کے درمیان بہتر تال میل اور مشترکہ کاوشیں قومی طاقت میں اضافہ کرتی ہیں اور دفاعی نظام کو مزید مستحکم بناتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستانی مسلح افواج تیزی سے مشترکہ آپریشنل نظام اور باہمی انضمام کی جانب بڑھ رہی ہیں، اس لیے وزارت دفاع کے فوجی اور سول شعبوں کے درمیان بھی اسی جذبے کے ساتھ تعاون کو وسعت دینا وقت کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق فوجی افسران عملی جنگی تجربہ، کمانڈ اور آپریشنل منصوبہ بندی کی مہارت رکھتے ہیں، جبکہ سول افسران انتظامی تسلسل، پالیسی سازی، حکومتی طریقہ کار اور ادارہ جاتی یادداشت جیسے اہم شعبوں میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان دونوں کی مشترکہ صلاحیتیں فیصلہ سازی کو زیادہ مؤثر، متوازن اور نتائج خیز بناتی ہیں۔راج ناتھ سنگھ نے فوجی اور سول افسران کے درمیان “کراس ایکسپوڑر” بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ تربیتی پروگرام، مطالعاتی کورسز، ترقیاتی اسائنمنٹس اور تجربات کے تبادلے سے دونوں شعبوں کو ایک دوسرے کے کام اور ضروریات کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملے گا، جس کے مثبت اثرات دفاعی نظام کی مجموعی کارکردگی پر مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر آرمڈ فورسز ہیڈکوارٹرز سولین سروسز کے افسران اپنی تکنیکی مہارت کو استعمال کرتے ہوئے دفاعی ضروریات کے مطابق مشترکہ سائبر ٹولز، سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم تیار کریں تو اس سے نہ صرف دفاعی افواج کی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ سائبر خطرات سے نمٹنے میں بھی نمایاں مدد ملے گی۔یو این ایس کے مطابق وزیر دفاع نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ دور میں دفاعی شعبے کے سول افسران کا کردار صرف سروس رولز، ضوابط اور انتظامی امور تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں قومی سلامتی، جغرافیائی و تزویراتی تحقیق، دفاعی پالیسی سازی، جدید ٹیکنالوجی اور اختراعی سوچ کے میدان میں بھی فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت دفاع کا مستقل کیڈر ہونے کی وجہ سے اے ایف ایچ کیو سولین سروسز کے افسران کے پاس وسیع ادارہ جاتی تجربہ موجود ہے، جس سے دفاعی شعبے کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے ہندوستانی فوجی تاریخ کے منظم مطالعے کے لیے ایک خصوصی فورم قائم کرنے کی بھی تجویز پیش کی، جہاں فوجی اور سول ماہرین مشترکہ طور پر ماضی کے تجربات کا تجزیہ کریں اور ان سے مستقبل کی حکمت عملی مرتب کرنے میں مدد حاصل کی جا سکے۔ ان کے مطابق اس طرح کے مطالعات سے نئی سوچ، جدید تجاویز اور مؤثر پالیسی سازی کو فروغ ملے گا۔وزیر دفاع نے آرمڈ فورسز ہیڈکوارٹرز سولین سروسز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کیڈر بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھال رہا ہے اور دفاعی انتظامیہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ افسران اپنی صلاحیتوں اور تجربے کی بنیاد پر مستقبل میں بھی قومی دفاع کو مزید مضبوط بنانے میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔ تقریب کے دوران راج ناتھ سنگھ نے جوائنٹ سیکریٹری و چیف ایڈمنسٹریٹو آفیسر کے دفتر کی متعدد نئی ڈیجیٹل خدمات کا افتتاح کیا اور ادارے کے نظرثانی شدہ وڑن اور مشن اسٹیٹمنٹ کا اجراء بھی کیا۔ انہوں نے “سمواد” میگزین کے چونتیسویں شمارے کی رونمائی بھی کی، جس میں مختلف عہدوں پر تعینات ملازمین کے مضامین، سفرنامے، تحقیقی مقالات، نظمیں اور دیگر تخلیقی تحریریں شامل ہیں۔تقریب میں وزیر مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجا سبرامنیم، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل دھیراج سیٹھ، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل کرشنا سوامی ناتھن، دفاعی سیکریٹری راجیش کمار سنگھ اور وزارت دفاع و مسلح افواج کے متعدد سینئر فوجی اور سول افسران نے شرکت کی۔










