18ہزاراسکولوں میں پی ایم پوشن کے تحت کھانا فراہم

18ہزاراسکولوں میں پی ایم پوشن کے تحت کھانا فراہم

غذائیت بخش خوراک کی فراہمی ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری//مرکز وزیر تعلیم

سرینگر// مرکزی حکومت نے پیر کو لوک سبھا کو بتایا کہ جموں و کشمیر کے 17 ہزار 954 سرکاری اسکولوں میں پردھان منتری پوشن اسکیم کے تحت طلبہ کو گرم اور غذائیت بخش کھانا فراہم کیا جا رہا ہے، تاہم ان تمام اسکولوں کو فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیاکے ساتھ رجسٹر کرنے کے لیے کوئی مخصوص مدت مقرر نہیں کی گئی ہے۔یو این ایس کے مطابق یہ معلومات وزارتِ تعلیم نے لوک سبھا میں غیر ستارہ شدہ سوال نمبر 2388 کے تحریری جواب میں فراہم کیں، جس میں پی ایم پوشن اسکیم کے تحت فراہم کیے جانے والے دوپہر کے کھانے اور اسکولوں کی ایف ایس ایس اے آئی رجسٹریشن سے متعلق تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔وزارت کی جانب سے پیش کردہ ضمیمے کے مطابق جموں و کشمیر میں 17,954 سرکاری اسکول اس اسکیم کے تحت شامل ہیں، جبکہ پڑوسی مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ میں 775 اسکولوں میں طلبہ کو پی ایم پوشن کے تحت کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔ملک گیر اعداد و شمار کے مطابق اتر پردیش اس اسکیم سے مستفید ہونے والے اسکولوں کی تعداد کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے، جہاں ایک لاکھ 41 ہزار 703 اسکول شامل ہیں۔ اس کے بعد مدھیہ پردیش میں 87 ہزار 492، مہاراشٹر میں 85 ہزار 206، مغربی بنگال میں 81 ہزار 12، بہار میں 68 ہزار 899 اور راجستھان میں 68 ہزار 239 اسکول اس اسکیم کے دائرے میں آتے ہیں۔وزارتِ تعلیم نے تاہم ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے یہ تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ ان میں سے کتنے اسکول فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔یو این ایس کے مطابق وزارت نے اپنے جواب میں کہا کہ تعلیم آئین کی مشترکہ فہرست کا موضوع ہے، اس لیے بیشتر سرکاری اسکولوں اور تعلیمی بورڈز کا انتظام متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے پاس ہے، جبکہ پی ایم پوشن اسکیم بھی انہی حکومتوں اور انتظامیہ کے اشتراک سے نافذ کی جاتی ہے۔وزارت کے مطابق بال واٹیکا، جماعت اول سے جماعت ہشتم تک کے سرکاری اور امداد یافتہ اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کو معیاری، محفوظ، گرم اور غذائیت بخش کھانا فراہم کرنے کی بنیادی ذمہ داری متعلقہ ریاستی حکومتوں اور یوٹی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔مرکزی حکومت نے بتایا کہ بچوں کو معیاری اور صحت بخش خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے معیار، صفائی اور غذائی تحفظ سے متعلق تفصیلی رہنما اصول جاری کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومتیں اور یوٹی انتظامیہ انسٹی ٹیوٹس آف ہوٹل مینجمنٹ، فوڈ کرافٹ انسٹی ٹیوٹس، ایف ایس ایس اے آئی اور ریاستی زرعی جامعات کے تعاون سے باورچیوں اور کک کم ہیلپرز کو باقاعدہ تربیت بھی فراہم کرتی ہیں۔وزارت نے اپنے جواب میں یہ واضح کیا کہ تمام اسکولوں کی ایف ایس ایس اے آئی رجسٹریشن مکمل کرنے کے لیے فی الحال کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی ہے، جبکہ اسکیم پر عمل درآمد اور غذائی معیار کو یقینی بنانے کی ذمہ داری بدستور ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ پر عائد ہے۔