کشتواڑ کے بجلی منصوبوں پر5 برس میں سی ایس آر پر 24 کروڑ روپے خرچ

کشتواڑ کے بجلی منصوبوں پر5 برس میں سی ایس آر پر 24 کروڑ روپے خرچ

ڈلہستی منصوبہ سی ایس آر اخراجات میں سرفہرست، راجیہ سبھا میں وزارتِ توانائی کا انکشاف

سرینگر// مرکزی حکومت نے پیر کو راجیہ سبھا کو بتایا کہ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں قائم پن بجلی منصوبوں نے گزشتہ پانچ مالی برسوں کے دوران کارپوریٹ سماجی ذمہ داری سرگرمیوں پر مجموعی طور پر 24 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے، تاہم ان منصوبوں کے تحت انجام دی گئی سرگرمیوں کا اب تک کوئی آزاد سماجی آڈٹ نہیں کرایا گیا ہے۔یو این ایس کے مطابق یہ معلومات مرکزی وزیر مملکت برائے توانائی شری پد نائک نے راجیہ سبھا میں ایک غیر ستارہ شدہ سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔ سوال میں کشتواڑ کے پن بجلی منصوبوں کے سی ایس آر فنڈ، اخراجات، مستفیدین کے انتخاب کے طریقہ کار اور سماجی آڈٹ سے متعلق تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔وزیر مملکت نے بتایا کہ مالی سال 2021-22 سے 2025-26 کے درمیان مختلف پن بجلی منصوبوں نے سی ایس آر سرگرمیوں کے لیے مجموعی طور پر 2,400 لاکھ روپے سے زائد کی رقم مختص یا خرچ کی۔ تاہم وزارت نے واضح کیا کہ ان سرگرمیوں کا کسی آزاد ادارے کے ذریعے سماجی آڈٹ نہیں کیا گیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن کے دلہستی پن بجلی منصوبے نے پانچ برسوں کے دوران سب سے زیادہ 2,046.82 لاکھ روپے سی ایس آر سرگرمیوں پر خرچ کیے۔ رتلے پن بجلی منصوبے نے 123.30 لاکھ روپے خرچ کیے، جبکہ پاکل ڈل، کیرو اور کوار پن بجلی منصوبوں نے مجموعی طور پر تقریباً 161 لاکھ روپے سی ایس آر سرگرمیوں پر صرف کیے۔وزارت کے مطابق سی ایس آر منصوبوں سے مستفید ہونے والے افراد اور علاقوں کا انتخاب ہر منصوبے کے مقاصد اور منصوبہ متاثرہ علاقوں کی مقامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔یو این ایس کے مطابق وزارت نے بتایا کہ دلہستی پن بجلی منصوبے کے تحت اسکولوں کی تعمیر و مرمت، تعلیمی ڈھانچے کی بہتری، صحت کی سہولیات، ایمبولینس کی فراہمی، این ایچ پی سی اسپتالوں اور ڈسپنسریوں کی معاونت، رابطہ سڑکوں کی تعمیر، ہاسٹل سہولیات، یاتری بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور صفائی ستھرائی کے منصوبوں پر کام کیا گیا۔ اس منصوبے کے سی ایس آر اخراجات کا بڑا حصہ تعلیمی اداروں اور اسکولوں پر صرف ہوا۔اسی طرح رتلے پن بجلی منصوبے کے تحت طبی کیمپوں، ادویات کی فراہمی، بلاک میڈیکل آفس دربشالہ کے لیے ایمبولینس، طلبہ کو وظائف، تعلیمی کٹس، اسکولوں کی مرمت، کھیلوں کی سرگرمیوں، شمسی توانائی سے روشنی کے نظام، سڑکوں کی تعمیر، ماحولیاتی اقدامات اور ثقافتی سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت فراہم کی گئی۔وزارت کے مطابق پاکل ڈل، کیرو اور کوار پن بجلی منصوبوں کے تحت اسکولوں میں پانی ذخیرہ کرنے اور صاف کرنے کی سہولیات، بیت الخلاؤں کی مرمت، طبی کیمپوں کا انعقاد، بنیادی صحت مراکز کو مضبوط بنانے، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، ضلع اسپتال کشتواڑ کے لیے ریڈیالوجی آلات اور منصوبہ متاثرہ دیہات میں صحت سے متعلق بیداری مہمات کی معاونت جیسے اقدامات کیے گئے۔وزارت نے اپنے جواب میں ایک بار پھر واضح کیا کہ اگرچہ سی ایس آر سرگرمیوں پر خاطر خواہ رقم خرچ کی گئی، تاہم ان منصوبوں کے سماجی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کسی آزاد یا غیر جانبدار ادارے کے ذریعے سماجی آڈٹ نہیں کرایا گیا ہے۔