10برسوں میں26لاکھ قرضے، خواتین کو 11ہزار کروڑ روپے کی مالی معاونت// وزیر خزانہ
سرینگر// مرکزی حکومت نے پیر کو لوک سبھا کو بتایا کہ پردھان منتری مدرا یوجنا کے آغاز سے لے کر جون 2026 تک جموں و کشمیر میں 26 لاکھ 57 ہزار 613 قرضے منظور کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت 60 ہزار 240.14 کروڑ روپے ہے۔یہ معلومات وزارتِ خزانہ نے پارلیمنٹ میں ایک غیر ستارہ شدہ سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔ وزارت کے مطابق اپریل 2015 میں شروع کی گئی پردھان منتری مدرا یوجنا کا مقصد ایسے افراد کو ضمانت سے پاکقرضے فراہم کرنا ہے، جن کے پاس چھوٹے یا خرد کاروبار قائم کرنے یا انہیں وسعت دینے کے لیے قابلِ عمل کاروباری منصوبہ موجود ہو۔یو این ایس کے مطابق ریاست وار اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں اس اسکیم کے تحت مجموعی طور پر 26,57,613 قرضے منظور کیے گئے۔ ان میں خواتین کاروباری افراد کو 6 لاکھ 44 ہزار 876 قرضے فراہم کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت 11 ہزار 367.02 کروڑ روپے رہی، جو اس اسکیم میں خواتین کی نمایاں شمولیت کی عکاسی کرتی ہے۔وزارت نے کہا کہ پردھان منتری مدرا یوجنا نے غیر منظم شعبے سے وابستہ افراد کو باضابطہ بینکاری نظام سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس اسکیم کے ذریعے مستحق افراد کو بینکوں، علاقائی دیہی بینکوں، مائیکرو فنانس اداروں اور دیگر مجاز قرض دہندہ اداروں کے ذریعے بغیر کسی ضمانت کے قرضے فراہم کیے جاتے ہیں، جس سے انہیں نہ صرف ادارہ جاتی قرض تک رسائی حاصل ہوتی ہے بلکہ ان کی کریڈٹ ہسٹری بھی تشکیل پاتی ہے۔وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ اسکیم ملک بھر میں چھوٹے کاروبار، خود روزگار اور نئے کاروباری منصوبوں کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم ذریعہ ثابت ہوئی ہے، جبکہ خواتین اور نوجوان کاروباری افراد بھی اس سے بڑی تعداد میں مستفید ہو رہے ہیں۔یو این ایس کے مطابق وزیر خزانہ نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں اٹل پنشن یوجنا کے آغاز سے اب تک 3 لاکھ 16 ہزار 130 افراد نے اس اسکیم کے تحت اندراج کرایا ہے، جن میں ایک لاکھ 6 ہزار 101 خواتین بھی شامل ہیں۔یہ معلومات وزارتِ خزانہ کے مطابق 30 جون 2026 تک جموں و کشمیر میں اٹل پنشن یوجنا کے تحت مجموعی طور پر 3,16,130 افراد کا اندراج ہوا، جن میں خواتین کی تعداد 1,06,101 رہی، جو مجموعی مستفیدین کا تقریباً ایک تہائی حصہ بنتی ہے۔وزارت نے بتایا کہ اٹل پنشن یوجنا کا آغاز 9 مئی 2015 کو کیا گیا تھا، جس کا مقصد بالخصوص غیر منظم شعبے کے کارکنوں، کم آمدنی والے طبقات اور معاشی طور پر کمزور افراد کے لیے سماجی تحفظ کا نظام فراہم کرنا ہے۔ یہ اسکیم 18 سے 40 برس عمر کے ایسے بھارتی شہریوں کے لیے دستیاب ہے جن کا بینک یا ڈاک خانے میں بچت کھاتہ موجود ہو۔وزارت نے مزید بتایا کہ یکم اکتوبر 2022 سے انکم ٹیکس ادا کرنے والے افراد کو اس اسکیم میں نئے اندراج کی اجازت نہیں ہے، تاکہ ضمانت شدہ پنشن کا فائدہ صرف مستحق غیر منظم شعبے کے کارکنوں تک محدود رکھا جا سکے۔اسکیم کے تحت مستفیدین کو 60 برس کی عمر مکمل ہونے کے بعد ایک ہزار، دو ہزار، تین ہزار، چار ہزار یا پانچ ہزار روپے ماہانہ کی ضمانت شدہ پنشن فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے لیے ماہانہ شراکت کی رقم 42 روپے سے 1454 روپے تک مقرر کی گئی ہے، جو اندراج کے وقت عمر اور منتخب پنشن کی رقم پر منحصر ہوتی ہے۔وزارتِ خزانہ کے مطابق حکومت اور پنشن فنڈ ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی مختلف آگاہی مہمات، بینکوں، اسٹیٹ لیول بینکرز کمیٹیوں، لیڈ ڈسٹرکٹ منیجرز، سیلف ہیلپ گروپس اور اسٹیٹ رورل لائیولی ہڈ مشنز کے تعاون سے اس اسکیم کی رسائی بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ غیر منظم شعبے کے کارکن، خصوصاً خواتین اور دیہی علاقوں سے وابستہ افراد، اس سے مستفید ہو سکیں۔










