جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے3 برس میں 1.97 کروڑ روپے جاری

جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے3 برس میں 1.97 کروڑ روپے جاری

انسانی و جنگلی حیات تصادم کم کرنے کے اقدامات کے لیے فنڈ فراہم//وزیر جنگلات

سرینگر// مرکزی حکومت نے پیر کو لوک سبھا کو بتایا کہ جموں و کشمیر کو 2023-24 سے 2025-26 کے درمیان جنگلی حیات کے مساکن-کی ترقی کے لیے مرکزی معاونت والی اسکیم کے تحت مجموعی طور پر ایک کروڑ 96 لاکھ 70 ہزار روپے (تقریباً 1.97 کروڑ روپے) جاری کیے گئے۔یہ معلومات مرکزی وزیر مملکت برائے ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کرتی وردھن سنگھ نے لوک سبھا میں غیر ستارہ شدہ سوال نمبر 2325 کے تحریری جواب میں فراہم کیں، جس میں جنگلی بندروں کے بڑھتے ہوئے مسئلے اور اس سے نمٹنے کے لیے حکومت کے اقدامات سے متعلق معلومات طلب کی گئی تھیں۔وزارت کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر کو مالی سال 2023-24 میں 69.58 لاکھ روپے، 2024-25 میں 73.97 لاکھ روپے اور 2025-26 میں 53.15 لاکھ روپے جاری کیے گئے، جبکہ اس مدت کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 1.97 کروڑ روپے فراہم کیے گئے۔وزارت نے بتایا کہ یہ مالی معاونت مرکزی معاونت والی مربوط ترقی برائے جنگلی حیات مساکن اسکیم کے تحت فراہم کی جاتی ہے، جس کا مقصد جنگلی حیات اور ان کے قدرتی مساکن کا تحفظ، انتظام اور انسانوں و جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم کو کم کرنا ہے۔وزارت کے مطابق اس فنڈ کا استعمال قبل از وقت انتباہی نظام ، شمسی توانائی سے چلنے والی برقی باڑ، حیاتیاتی باڑ، خندقوں اور حفاظتی دیواروں کی تعمیر و تنصیب جیسے اقدامات پر کیا جا سکتا ہے، تاکہ جنگلی جانوروں سے فصلوں، مویشیوں اور املاک کو ہونے والے نقصان کو کم کیا جا سکے اور انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔یو این ایس کے مطابق وزارت نے مزید بتایا کہ انسانی و جنگلی حیات تصادم سے نمٹنے کے لیے ریپڈ رسپانس ٹیموں اور مقامی کمیونٹی کے رضاکاروں کی خدمات بھی حاصل کی جاتی ہیں۔مرکزی حکومت نے واضح کیا کہ بعض ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو فنڈ اس صورت میں جاری نہیں کیے جاتے جب متعلقہ حکومتیں اخراجات کی تفصیلات فراہم نہ کریں، نئی تجاویز پیش نہ کریں یا جمع کرائی گئی تجاویز مقررہ معیار پر پوری نہ اتریں۔