مذہبی ورثے کے تحفظ اور عقیدت مندوں کیلئے سہولیات کو بہتر بنانے کا اَقدام
سری نگر//حکومت جموں و کشمیر نے ضلع اننت ناگ کے دو اہم مذہبی مقامات کے تحفظ، بحالی اور ترقی کے لئے مجموعی طور پر 10.95 کروڑ روپے مالیت کے دو منصوبوں کی منظوری دی ہے۔منصوبے کے تحت زیارت شریف کھیرم کی بحالی اور تزئین و آرائش کے لئے 5.03 کروڑ روپے جبکہ شیو مندر تھاجیوارہ بجی بہاڑہ کی مرمت اور مرمت کے لئے 5.92 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ان منصوبوں کا مقصد ان مقدس عبادت گاہوں کی روحانی عظمت، تاریخی ورثے اور تعمیراتی شناخت کو محفوظ رکھنا ہے جبکہ بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنا کرسیاحوں اور عقیدت مندوں کے لئے زیادہ بہتر سہولیات فراہم کرنا بھی اس کا اہم حصہ ہے۔منصوبوں کا مقصد ان مقدس عبادت گاہوں کے تقدس، ورثے اور تعمیراتی کردار کو برقرار رکھنا ہے جبکہ عقیدت مندوں اور سیاحوں کو ایک بہتر تجربہ فراہم کرنے کے لئے ضروری اِنفراسٹرکچر کو اَپ گریڈ کرنا ہے۔یہ منظوری وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کی اُن مسلسل کوششوں کا حصہ ہے جن کے تحت جموں و کشمیر بھر میں مذہبی اور تاریخی ورثے کے مقامات کو بحال، محفوظ اور ترقی دِی جا رہی ہے۔ حکومت کا مقصد ان مقامات کے تحفظ اور عوامی سہولیات کی بہتری کے ذریعے اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ آنے والی نسلیں بھی خطے کے عظیم روحانی، ثقافتی اور تاریخی ورثے سے مستفید ہوتی رہیں۔حکومت نے حال ہی میں جموں و کشمیر میں تاریخی ورثے کے تحفظ سے متعلق متعدد منصوبوں کی منظوری بھی دی ہے جن میں ضلع سانبہ کے تاریخی مقام پورمنڈل کی بحالی، سری نگر کے تاریخی امام بارگاہ زڈی بل کی مرمت و ترقی، ضلع پلوامہ کے یارون میں چشمہ کھو صاحب کی ترقی، ضلع شوپیاں کی تاریخی جامع مسجد شریف کی بحالی اور ضلع رام بن میں سرودھار چومنڈا ماتا مندر کی مرمت و بحالی شامل ہیں۔










