farooq abdulla

مزدوروں اور پولیس اہلکار کے قاتلوں کی شناخت عوام کے سامنے لائی جائے

سرحدیں بند ہیں تو دہشت گرد کہاں سے آ رہے ہیں؟ حکومت جواب دے//فاروق عبداللہ

سرینگر//نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ضلع کولگام میں دو غیر مقامی مزدوروں اور اننت ناگ میں ایک پولیس اہلکار کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان حملوں میں ملوث دہشت گردوں کی شناخت عوام کے سامنے لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صرف یہ بتا کر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتی کہ واردات دہشت گردوں نے انجام دی، بلکہ عوام کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ یہ عناصر کون ہیں اور کہاں سے آ رہے ہیں۔یو این ایس کے مطابق اتوار کو ضلع اننت ناگ کے بیجبہاڑہ علاقے میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگر تمام سرحدیں مکمل طور پر بند ہیں تو پھر یہ دہشت گرد جموں و کشمیر میں داخل کیسے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس سوال کا واضح جواب دینا چاہیے تاکہ عوام کے ذہنوں میں پائے جانے والے شکوک و شبہات دور ہو سکیں۔انہوں نے کہا، “لوگوں کو بتایا جانا چاہیے کہ ان قتل کی وارداتوں کے پیچھے کون لوگ ہیں۔ ہمیں ہر بار صرف یہ بتایا جاتا ہے کہ دہشت گردوں نے حملہ کیا، لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ وہ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں۔سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان حملہ آوروں کی شناخت منظر عام پر لانا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا واقعی وادی میں دہشت گردی کا خاتمہ ہو چکا ہے، جیسا کہ لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے بارہا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دہشت گردی ختم ہو چکی ہے تو پھر مسلسل ایسے حملے کیوں ہو رہے ہیں۔فاروق عبداللہ نے 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زمینی حقائق حکومتی دعوؤں سے مختلف نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے کیے جانے والے دعوؤں کا حقیقت سے موازنہ کیا جانا چاہیے۔یو این ایس کے مطابق نیشنل کانفرنس کے صدر نے ایک بار پھر مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ فوری طور پر بحال کیا جائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ 2019 کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے جموں و کشمیر کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور عوام سے ان کے آئینی و جمہوری حقوق چھین لیے گئے ہیں۔پی او کے کی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے عالمی برادری کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہاں کے عوام بھی ہمارے بھائی ہیں اور ان کی مشکلات پر ہمیں تشویش ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک وفد پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر بھیجے تاکہ وہاں کی موجودہ صورتحال کا براہِ راست جائزہ لیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف عالمی برادری بلکہ بھارت کی جانب سے بھی اس معاملے پر کوئی مؤثر آواز بلند نہیں کی گئی، جو باعثِ تشویش ہے۔