وادی میں2برسوں میں 26 اور جموں میں 10 فیصد پوائنٹس کی بہتری درج
سرینگر// جموں و کشمیر میں بجلی کی تقسیم کے شعبے میں مرکزی حکومت کی “ریویمپڈ ڈسٹری بیوشن سیکٹر اسکیم” (آر ڈی ایس ایس) کے تحت نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (کے پی ڈی سی ایل) نے گزشتہ دو مالی برسوں کے دوران ایگریگیٹ ٹیکنیکل اینڈ کمرشل (اے ٹی اینڈ سی) نقصانات میں 26.05 فیصد پوائنٹس جبکہ جموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (جے پی ڈی سی ایل) نے 10.19 فیصد پوائنٹس کی کمی درج کی ہے۔ لداخ کے محکمہ بجلی نے بھی مالی سال 2024-25 میں مقررہ ہدف سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔یو این ایس کے مطابق مرکزی وزارتِ بجلی کی جانب سے پارلیمنٹ کو فراہم کی گئی معلومات کے مطابق جے پی ڈی سی ایل کو مالی سال 2022-23 میں 44 فیصد اے ٹی اینڈ سی نقصانات کا ہدف دیا گیا تھا، تاہم اس نے نقصانات کو 37.64 فیصد تک محدود رکھا۔ مالی سال 2023-24 میں یہ شرح مزید کم ہو کر 32.47 فیصد رہی، جبکہ مالی سال 2024-25 میں نقصانات گھٹ کر 27.45 فیصد تک پہنچ گئے، جو دو برسوں میں 10.19 فیصد پوائنٹس کی مجموعی بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔ موجودہ مالی سال کے لیے جے پی ڈی سی ایل کو 27 فیصد کا ہدف دیا گیا ہے، جسے ادارہ تقریباً حاصل کر چکا ہے۔دوسری جانب کے پی ڈی سی ایل نے سب سے زیادہ بہتری درج کی۔ مالی سال 2022-23 میں اس کے اے ٹی اینڈ سی نقصانات 59.59 فیصد تھے، جو مالی سال 2023-24 میں کم ہو کر 51.98 فیصد رہ گئے۔ مالی سال 2024-25 میں یہ شرح نمایاں طور پر گھٹ کر 33.54 فیصد پر آ گئی، یوں دو برسوں کے دوران مجموعی طور پر 26.05 فیصد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔لداخ کے محکمہ بجلی نے بھی مالی سال 2024-25 میں اے ٹی اینڈ سی نقصانات کو کم کر کے 26.82 فیصد تک پہنچا دیا، جو 28 فیصد کے مقررہ ہدف سے بہتر کارکردگی ہے، حالانکہ گزشتہ مالی سال میں یہ شرح 42.46 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔یو این ایس کے مطابق وزارتِ بجلی نے کہا کہ آر ڈی ایس ایس، جس کا آغاز جولائی 2021 میں کیا گیا تھا، کی مجموعی مالیت 3.03 لاکھ کروڑ روپے ہے، جس میں مرکز کی جانب سے 97,631 کروڑ روپے کی بجٹ معاونت شامل ہے۔ اس کے تحت نقصانات میں کمی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے 1.53 لاکھ کروڑ روپے اور اسمارٹ میٹرنگ منصوبوں کے لیے 1.31 لاکھ کروڑ روپے کی منظوری دی جا چکی ہے۔وزارت کے مطابق ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مالی امداد ان کی کارکردگی، بالخصوص اے ٹی اینڈ سی نقصانات میں کمی، سے مشروط ہے۔ وزارت نے مزید بتایا کہ ملک بھر میں مجموعی اے ٹی اینڈ سی نقصانات مالی سال 2020-21 کے 21.91 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2024-25 میں 15.04 فیصد رہ گئے ہیں، جو بجلی کے شعبے میں جاری اصلاحات کے مثبت اثرات کی عکاسی کرتے ہیں۔










