2025-26 میں 1,263 اسامیوں کے مقابلے 1,152 تقرریاں، 508 افسران کی ترقی کی منظوری
سرینگر// جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن نے آئین ہند کے آرٹیکل 323(2) کے تحت سال 2025-26 کی اپنی 67ویں سالانہ رپورٹ ہفتہ کو لوک بھون، سری نگر میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو پیش کی۔ کمیشن کے چیئرمین ارون کمار چودھری کی قیادت میں کمیشن کے اراکین ڈاکٹر راجیو سنگھ اور آصف محمود ساگر کے علاوہ سیکرٹری بشیر احمد ڈار پر مشتمل وفد نے لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کے دوران رپورٹ پیش کی۔یو این ایس کے مطابق سالانہ رپورٹ میں 2025-26 کے دوران کمیشن کی کارکردگی، انتظامی اصلاحات، بھرتیوں کے عمل میں شفافیت، انتخابی عمل میں تیزی اور مختلف انتظامی و عدالتی خدمات میں کی گئی تقرریوں کی تفصیلات شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کمیشن نے اس عرصے کے دوران بھرتی کے نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور جدید بنانے کے لیے متعدد اصلاحات نافذ کیں۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کمیشن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ جے کے پی ایس سی نے میرٹ، شفافیت اور دیانت داری کو برقرار رکھتے ہوئے بھرتی کے عمل کو تیز رفتار بنانے میں قابل ذکر کام کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کمیشن آئندہ بھی نوجوانوں کو منصفانہ اور شفاف مواقع فراہم کرنے کے اپنے مشن کو جاری رکھے گا۔چیئرمین ارون کمار چودھری نے لیفٹیننٹ گورنر کو کمیشن کی جانب سے متعارف کرائی گئی ساختی اور تکنیکی اصلاحات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان اقدامات کا مقصد بھرتیوں کے پورے عمل کو زیادہ شفاف، تیز اور غلطیوں سے پاک بنانا ہے۔رپورٹ کے مطابق سال 2025-26 کے دوران کمیشن کو 1,263 آسامیوں کے لیے مجموعی طور پر 94 ہزار 546 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 1,152 آسامیوں پر امیدواروں کا انتخاب کیا گیا۔ ان تقرریوں میں جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس جموں و کشمیر پولیس سروس جموں و کشمیر اکاؤنٹس سروس، ماتحت عدلیہ میں 39 جونیئر ججوں کی تقرری، پلاننگ، ڈیولپمنٹ اینڈ مانیٹرنگ محکمہ میں اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، مختلف سرکاری میڈیکل کالجوں، ڈگری کالجوں اور دیگر محکموں کے گزٹیڈ عہدوں پر تقرریاں شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمیشن نے سال کے دوران 52 تحریری اور ابتدائی امتحانات جبکہ دو مرکزی (مینز) امتحانات منعقد کیے۔ اسی عرصے میں تین محکمانہ امتحانات بھی لیے گئے، جن میں 813 امیدوار شریک ہوئے۔پبلک سروس کمیشن نے ترقیوں کے معاملات میں بھی پیش رفت کرتے ہوئے 29 محکمانہ ترقیاتی کمیٹی (ڈی پی سی) اجلاس منعقد کیے، جن میں 508 افسران کی ترقی کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ کمیشن نے دو سرکاری محکموں کے بھرتی قواعد (ریکروٹمنٹ رولز) کی بھی منظوری دی۔یو این ایس کے مطابق رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ کمیشن نے بھرتیوں کے عمل میں مکمل شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سو فیصد تحریری امتحان پر مبنی انتخابی نظام اختیار کیا ہے۔ اسی مقصد کے تحت جوابی پرچوں کی جانچ کے لیے “آن اسکرین ایویلیوایشن” نظام نافذ کیا گیا ہے تاکہ انسانی غلطیوں کا امکان کم ہو اور نتائج بروقت جاری کیے جا سکیں۔مزید برآں امیدواروں کی سہولت کے لیے امتحانات اور انٹرویوز سے متعلق اطلاعات بذریعہ ایس ایم ایس فراہم کرنے کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس سے امیدواروں کو بروقت معلومات کی فراہمی ممکن ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ان اصلاحات کا بنیادی مقصد بھرتی کے عمل کو جدید خطوط پر استوار کرنا، شفافیت کو فروغ دینا، انتخابی عمل میں تاخیر کا خاتمہ کرنا اور نوجوان امیدواروں کا اعتماد مزید مستحکم بنانا ہے۔










