جاوید احمد ڈار نے صوبہ جموں میں دیہی ترقی کے اَقدامات کا جائزہ لیا

جموں//وزیر برائے دیہی ترقی و پنچایتی راج، اِمدادِ باہمی اور الیکشن محکمہ جات جاوید احمد ڈار نے صوبہ جموں میں جاری مختلف دیہی ترقیاتی اَقدامات اور اہم فلاحی پروگراموں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے ایک جامع جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔میٹنگ میں بڑی سکیموں اور پروگراموں کی پیش رفت اور عمل آوری کاجائزہ لیاگیا جن میں جی۔آر اے ایم ۔ جی ، پردھان منتری آواس یوجنا۔دیہی (پی ایم اے وائی ۔ جی)، سوچھ بھارت مشن۔دیہی (ایس بی ایم۔جی)، راشٹریہ گرام سوراج ابھیان (آر جی ایس اے)، اِنٹگریٹیڈ واٹرشیڈ مینجمنٹ پروگرام (آئی ڈبلیو ایم پی )، نیشنل رورل لائیولی ہڈ مشن (این آر ایل ایم ) سمیت مرکزی معاونت والی اور محکمہ جاتی منصو شامل ہیں۔ اِن منصوبوں کا مقصد دیہی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، روزگار اور ذریعہ معاش کے مواقع کو بہتر بنانا اور دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کوبڑھانا ہے۔ میٹنگ کے شروعات میں ڈائریکٹر دیہی ترقی جموں شہناز اختر نے پاور پوائنٹ پرزنٹیشن دِی جس میں ڈویژن بھر میں مختلف سکیموں کے تحت جاری منصوبوں اور ترقیاتی کاموں کی طبعی و مالی پیش رفت پیش کی گئی۔ اُنہوں نے وزیرموصوف کو مختلف پروگراموں کی کامیابیوں، اہداف، درپیش رُکاوٹوں اور عمل آوری کی صورتحال کے بارے میں جانکاری دِی۔میٹنگ کے دوران وزیر جاوید ڈار نے تمام ترقیاتی کاموں میں شفافیت، جوابدہی اور بروقت تکمیل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اَفسران کو ہدایت دی کہ معیار پر سمجھوتہ کئے بغیر منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کئے جائیں۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ دیہی ترقی کا اصل مقصد دیہات میں رہنے والے لوگوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔ اُنہوں نے نچلی سطح کے اِداروں کو مزید مضبوط بنانے اور یہ یقینی بنانے پر زور دیا کہ سرکاری سکیموں کے فوائد شفاف، مؤثر اور مقررہ مدت کے اندر مستحق اَفراد تک پہنچیں۔وزیرموصوف نے آبی تحفظ، روزگار اور ذریعہ معاش میں بہتری، دیہی بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی، روزگار کی فراہمی اور فلاحی سکیموں کی عمل آوری کو ترجیحی شعبے قرار دئیے۔اُنہوں نے مقررہ اہداف کو حاصل کرنے اور عمل درآمد سے متعلق چیلنجوں سے فوری طور پر نمٹنے کے لئے مختلف محکموں اور فیلڈ اہلکاروں کے درمیان قریبی ہم آہنگی پر زور دیا۔اُنہوں نے مزید کہا کہ دیہی ترقیاتی پروگراموں میں عوامی شمولیت نہایت ضروری ہے۔اُنہوںنے کہا کہ دیرپا نتائج، عوامی وسائل کے مؤثر اِستعمال اور جوابدہ خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے پنچایتی راج اِداروں، مقامی کمیونٹیوں اور اِستفادہ کنندگان کی زیادہ سے زیادہ شمولیت ضروری ہے۔وزیرجاوید ڈار نے اِفسران کو ہدایت دی کہ وہ باقاعدگی سے فیلڈ دورے کریں، جاری منصوبوں کی پیش رفت کی مسلسل نگرانی کریں اور اِس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام ترقیاتی اَقدامات دیہی عوام کی حقیقی ضروریات اور اُمنگوں کے مطابق ہوں۔اُنہوں نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے جامع دیہی ترقی کے عزم کا اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دیہی آبادی کو بااِختیار بنانے، بنیادی سہولیات تک رَسائی بہتر بنانے، مقامی کاروبار کو فروغ دینے، دیرپاروزگار کے مواقع پیدا کرنے اور دیہی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لئے مربوط کوششیں کر رہی ہے۔وزیر موصوف نے افسران کو ہدایت دی کہ عمل درآمد میں موجود خامیوں کی نشاندہی کریں، باہمی تعاون سے رُکاوٹیں دور کریں اور مقامی آبادی کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھیں تاکہ ترقیاتی عمل عوام دوست، جامع اور ضروریات کے مطابق رہے۔میٹنگ میں ڈائریکٹر دیہی ترقی جموں، اسسٹنٹ کمشنرز ڈیولپمنٹ (اے سی ڈِی)، اسسٹنٹ کمشنرز پنچایتی راج (اے سی پیز) اور محکمہ دیہی ترقی و پنچایتی راج کے دیگر سینئر اِفسران نے شرکت کی۔