عمر عبداللہ اور پائل عبداللہ کی باہمی رضامندی سے طلاق کی درخواست

عمر عبداللہ اور پائل عبداللہ کی باہمی رضامندی سے طلاق کی درخواست

سپریم کورٹ نے کیا درخواست کے مطابق مناسب حکم جاری کرنے کا فیصلہ

سرینگر// جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور ان کی اہلیہ پائل عبداللہ نے باہمی رضامندی سے اپنی شادی ختم کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں آئین ہند کے آرٹیکل 142 کے تحت طلاق کی درخواست دائر کر دی ہے۔یو این ایس کے مطابق جمعہ کو سپریم کورٹ میں جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آلوک آرادھے پر مشتمل بنچ کے روبرو سینئر وکیل کپل سبل نے بتایا کہ دونوں فریقین نے “اپنی اپنی آزادی قبول کر لی ہے” اور باہمی رضامندی سے شادی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ آرٹیکل 142 کے تحت طلاق کی منظوری دی جائے۔کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ باہمی رضامندی سے طلاق کی درخواست 22 جولائی کو دائر کی گئی تھی۔ اس پر جسٹس نرسمہا نے کہا کہ عدالت اس کے مطابق مناسب حکم جاری کرے گی۔عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ عمر عبداللہ اور پائل عبداللہ نے ایک دوسرے کے خلاف دائر تمام مقدمات واپس لینے پر اتفاق کیا ہے۔ جسٹس نرسمہا نے کہا کہ اس تمام اتفاق رائے کو عدالتی حکم کا حصہ بنایا جائے گا اور مقدمہ اسی بنیاد پر نمٹا دیا جائے گا۔واضح رہے کہ عمر عبداللہ نے دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس میں انہیں طلاق دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے معاملہ مفاہمت کی کوششوں کے لیے سپریم کورٹ میڈی ایشن سینٹر بھی بھیجا تھا۔یو این ایس کے مطابق عمر عبداللہ اور پائل عبداللہ کی شادی یکم ستمبر 1994 کو ہوئی تھی۔ دونوں سال 2009 سے علیحدہ رہ رہے ہیں اور ان کے دو بیٹے ہیں۔ عمر عبداللہ نے خاندانی عدالت میں ترکِ ازدواج اور ذہنی اذیت کی بنیاد پر بھی طلاق کی درخواست دائر کی تھی، تاہم 30 اگست 2016 کو فیملی کورٹ نے یہ کہتے ہوئے درخواست مسترد کر دی تھی کہ شادی کے ناقابلِ تلافی طور پر ختم ہو جانے کا دعویٰ ثابت نہیں ہو سکا۔ بعد ازاں انہوں نے اس فیصلے کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، لیکن دسمبر 2023 میں دہلی ہائی کورٹ نے بھی فیملی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔