گرین ہائی ویز پالیسی کے تحت قومی شاہراہوں پر شجرکاری میں جموں و کشمیر کی رفتار تیز// نیتن گڈکرے
سرینگر// مرکزی حکومت نے راجیہ سبھا کو بتایا ہے کہ جموں و کشمیر میں مالی سال 2025-26 کے دوران قومی شاہراہوں کے کنارے ایک لاکھ 80 ہزار پودے لگائے گئے، جو گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ایک سال میں لگائے گئے پودوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔یو این ایس کے مطابق مرکزی وزیر برائے سڑک نقل و حمل و شاہراہیں نتن جے رام گڈکری نے راجیہ سبھا میں ایک غیر ستارہ سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ جموں و کشمیر میں 2021-22 کے دوران 47 ہزار، 2022-23 میں 87 ہزار، 2023-24 میں 86 ہزار، 2024-25 میں ایک لاکھ 27 ہزار جبکہ 2025-26 میں ایک لاکھ 80 ہزار پودے قومی شاہراہوں کے کنارے لگائے گئے۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران شجرکاری کی سرگرمیوں میں تقریباً چار گنا اضافہ ہوا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر تقریباً 5.17 لاکھ پودے قومی شاہراہوں کے کنارے لگائے گئے، جو ملک بھر میں اسی عرصے کے دوران لگائے گئے 3.61 کروڑ سے زائد پودوں کا تقریباً 1.4 فیصد بنتے ہیں۔وزارت نے بتایا کہ گرین ہائی ویز (شجرکاری، منتقلی، خوبصورتی اور دیکھ بھال) پالیسی 2015 کے تحت قومی شاہراہوں کی درمیانی پٹی اور سڑک کے اطراف دستیاب زمین پر شجرکاری کی جاتی ہے۔ یہ کام یا تو شاہراہی منصوبوں کے حصے کے طور پر یا الگ شجرکاری مہمات کے ذریعے انڈین روڈز کانگریس کی ہدایات کے مطابق انجام دیا جاتا ہے۔وزارت کے مطابق شجرکاری اور ماحولیاتی تحفظ پر آنے والے اخراجات کو عمومی طور پر قومی شاہراہی منصوبوں کی مجموعی لاگت میں شامل کیا جاتا ہے، جبکہ الگ سے شجرکاری مہمات کے لیے بھی قومی شاہراہوں کے منصوبوں کے لیے مختص فنڈز سے مالی وسائل فراہم کیے جاتے ہیں۔مرکزی حکومت نے بتایا کہ قومی شاہراہوں کی تعمیر اور دیکھ بھال میں ماحول دوست ٹیکنالوجی اور ری سائیکل شدہ مواد کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے، جن میں بانس سے تیار کردہ کریش بیریئرز، فلائی ایش، ری کلیمڈ اسفالٹ، تعمیراتی ملبہ، پلاسٹک فضلہ، جوٹ اور ناریل کے ریشوں سے تیار کردہ جیو ٹیکسٹائل، بائیو بٹومین، کرمب ربڑ اور سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس سے حاصل شدہ صاف پانی شامل ہیں۔وزارت نے کہا کہ قومی شاہراہوں کے منصوبوں میں درختوں کی شجرکاری اور کاربن کے اخراج میں کمی کے اقدامات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس مقصد کیلئے میاواکی طرز کی شجرکاری اور ڈرون کے ذریعے نگرانی جیسے جدید طریقے اپنائے جا رہے ہیں، جبکہ جہاں درختوں کی کٹائی ناگزیر ہو وہاں متبادل شجرکاری اور درختوں کی منتقلی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔










