لیفٹیننٹ گورنر نے کلسٹر یونیورسٹی جموں میں اِنقلابی تعلیمی اَقدامات کا اِفتتاح کیا

کہا،اکیسویں صدی اُن نوجوانوں کا خیرمقدم کرے گی جو مختلف شعبہ جات کے علم کو مربوط کرنے اور نئے حل تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتے رہیں

جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے کلسٹر یونیورسٹی جموں میں ایک تاریخی موقع پر اعلیٰ تعلیم کے مستقبل کو نئی سمت دینے کے مقصد سے متعدد اِنقلابی تعلیمی پروگراموں کا اِفتتاح کیا۔اُنہوں نے اَپنے خطاب میں ’’ڈیزائن یور ڈِگری‘‘ پروگرام کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے اسے طالب علم مرکوز تعلیم کی جانب ایک اِنقلابی قدم قرار دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ آج کی دُنیا ایسے کثیرالشعبہ فکر رکھنے والے اَفراد کی ضرورت ہے جو متنوع شعبوں میں علم کو مربوط کر سکیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’علم کی حدود مسلسل وسیع ہو رہی ہیں۔ آج کے مسائل کئی جہتوں پر مشتمل ہیں اور ان کے حل بھی صرف کثیر الشعبہ نقطۂ نظر سے ہی ممکن ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ اکیسویں صدی اُن نوجوانوں کا خیرمقدم کرے گی جو صرف ایک مضمون کے ماہر نہ ہوں بلکہ مختلف شعبوں کے علم کو مربوط کر کے نئے حل تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ مستقبل اُن لوگوں کا ہے جو حدود کے بجائے امکانات کو پہچانتے ہیں۔ یہ اقدام طلبأ کو اَپنی دلچسپی، صلاحیت اور خواہشات کے مطابق مضامین کا انتخاب کر کے اپنی تعلیمی راہ خود متعین کرنے کا اِختیار دیتا ہے۔‘‘ اِس افتتاحی تقریب میںفزکس، کیمسٹری، باٹنی،زولوجی، ریاضی اور جغرافیہ میں مربوط پروگراموں کا بھی آغاز کیا گیا۔ اُنہوںنے کہا کہ سائنس باہمی ربط پر قائم ہے اور یہ کورسز طلبأ کو ہمہ جہت محقق بننے میں مدد دیں گے جو پیچیدہ چیلنجوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔اُنہوں نے کہا،’’ موسمیاتی تبدیلی کا مطالعہ صرف ماحولیاتی سائنس تک محدود نہیں بلکہ اس میں کیمسٹری، فزکس، ریاضی، جغرافیہ اور دیگر علوم بھی یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر طلبأ کو اِبتدا ہی سے وسیع نقطٔ نظر فراہم کیا جائے تو وہ صرف ایک مضمون کے ماہر نہیں رہیں گے بلکہ ایسے محقق اور مفکر بنیں گے جو پیچیدہ مسائل کو مکمل طور پر سمجھنے اور ان کا حل تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔کلسٹر یونیورسٹی جموں مختلف مضامین کے امتزاج کی حوصلہ افزائی کے ذریعے طلبأ کو صرف نظریات سکھانے تک محدود نہیں رکھ رہی بلکہ انہیں نے آئیڈیاز اور اِختراعات کی طرف بھی راغب کر رہی ہے۔‘‘
کلسٹر یونیورسٹی جموں نے شعبہ ویدک سٹیڈیز کے قیام کے ساتھ ساتھ سناتن دھرم اور اِنڈین نالج سسٹم میں ایک سالہ پی جی ڈپلوما بھی متعارف کیا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ حقیقی تعلیم سائنس او راَقدار کے درمیان تواز ن ضروری ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پانینی کی گرامر، آریہ بھٹ کی فلکیات، آیوروید اور لسانیات سمیت ہندوستان کا علمی ورثہ منظم فکر اور سائنسی بصیرت کا بے بہا خزانہ ہے۔اُنہوں نے کہا،’’جدید علم جتنا ضروری ہے، اتنا ہی ضروری یہ بھی ہے کہ ہم اپنی شناخت، اَپنی فکری روایت اور اَپنی تہذیب کی عالمی خدمات سے آگاہ ہوں۔ اِسی جذبے کے تحت شعبہ ویدک سٹیڈیز کا قیام اور سناتن دھرم و اِنڈین نالیج سسٹم میں ایک سالہ پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما کا آغاز ایک اہم قدم ہے۔ اِس پروگرام کے ذریعے طلبأ یہ جان سکیں گے کہ اِنڈین نالیج سسٹم صرف قدیم عقائد یا مذہبی رسومات تک محدود نہیں بلکہ ہندوستانی فلسفہ، اپنشد، وید، قدیم ریاضی، طب، فلکیات اور لسانیات گہری علمی تحقیق، سائنسی فکر اور منطقی اِستدلال کا عظیم ورثہ ہیں جو ہمارے آباؤ اَجداد نے دُنیا کو عطا کیا۔ پروگرام طلبأ کو جدید علم حاصل کرتے ہوئے ہندوستان کی تہذیبی حکمت سے گہرائی سے جُڑنے کا موقع فراہم کرے گا۔لیفٹیننٹ گورنر نے آئی آئی ٹی مدراس کے اِشتراک سے سیمی کنڈکٹر سکلنگ پروگرام کا بھی اِفتتاح کیا اور اسے ہندوستان کے تکنیکی مشن میں ایک اہم قدم قرار دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ سیمی کنڈکٹر جدید اِختراعات کی بنیاد ہیں اور موبائل فون سے لے کر خلائی مشن تک ہر شعبے میں اُن کا بنیادی کردار ہے۔اُنہوں نے کہا،’’وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان نے ٹیکنالوجی کی ترقی اور مینوفیکچرنگ میں عالمی قیادت حاصل کرنے کا عزم کیا ہے۔ یہ سکلنگ پروگرام طلبأ کو جدید ترین مہارتوں سے آراستہ کرے گا،انہیں مستقبل کی صنعتوں کی ضروریات سے ہم آہنگ کرے گا اور عالمی گہرے ٹیکنالوجی کے منظر نامے میں ہندوستان کی پوزیشن کو مضبوط کرے گا۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے طالب علموں پر زور دیا کہ وہ سکل ڈیولپمنٹ اور اِختراع پر خصوصی توجہ دیں۔ اُنہوں نے کہا کہ حاصل کی گئی ہر مہارت اور ہر نئی اِختراع ہندوستان کو خود انحصاری اور عالمی قیادت کی منزل کی جانب لے جانے میں معاون ثابت ہوگی۔ اُنہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ پروگرام نہ صرف اِنفرادی تعلیمی سفر کو تقویت بخشیں گے بلکہ جموں کشمیر کی ترقی کو نئی سمت بھی دیں گے۔اُنہوں نے کہا،’’کلسٹر یونیورسٹی جموں میں نئے پروگراموں کا آغاز تعلیم کے ایک نئے فلسفے کی شروعات ہے۔ ہندوستان کی ثقافتی شناخت پر مبنی اور عالمی اُمنگوں سے ہم آہنگ یہ اَقدامات طالب علموں کو بڑے خواب دیکھنے، اِختراع کرنے اور قیادت کرنے کے قابل بنائیں گے۔‘‘
اِس موقعہ پر ماحولیاتی سائنسز میں پوسٹ گریجویٹ پروگرام برائے قابل تجدید توانائی میں مائنر سپیشلائزیشن کے ساتھ، ڈوگری ترجمہ میں ایک سالہ پوسٹ گریجویٹ ڈپلومس کا آغاز،نشہ مکت بھارت سرگرمی رپورٹ کا اِجرأ اور وائس چانسلر کے دفتر برائے سیکرٹریٹ کمپلیکس کا نام تبدیل کر کے ’’سوریہ پتری توی بھون‘‘ اور پرانے آئی آئی ایم کیمپس کا نام ’’چندرابھاگا کیمپس‘‘ رکھنے کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔اِفتتاحی تقریب میںوائس چانسلر کلسٹر یونیورسٹی جموںپروفیسر کے ایس چندر شیکھر، رجسٹرار انکور مہاجن، مختلف شعبہ جات کے سربراہان، یونیورسٹی کے ماتحت کالجوں کے سربراہان، اَساتذہ اور بڑی تعداد میں طلبأنے شرکت کی۔