جموں کشمیر کے نئے مستفیدین کی تعداد میں مسلسل کمی، لوک سبھا میں اعداد و شمار پیش
سرینگر//جموں و کشمیر میں گزشتہ تین مالی برسوں کے دوران پردھان منتری اسٹریٹ وینڈر آتم نربھر ندھی (پی ایم سواندھی) اسکیم کے تحت 2,531 اسٹریٹ وینڈرز مستفید ہوئے، جبکہ لداخ میں اسی عرصے کے دوران 145 افراد نے اس اسکیم سے فائدہ اٹھایا۔ یہ اعداد و شمار مرکزی وزارت ہاؤسنگ و شہری امور کی جانب سے جمعرات کو لوک سبھا میں پیش کیے گئے۔وزارت کی جانب سے جاری ریاست وار اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں مالی سال 2023-24 کے دوران 1,553 اسٹریٹ وینڈرز کو اسکیم کے تحت فائدہ پہنچا، جبکہ 2024-25 میں یہ تعداد کم ہو کر 499 اور 2025-26 میں مزید گھٹ کر 479 رہ گئی۔ یو این ایس کے مطابق اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران دونوں مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں نئے مستفیدین کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ جموں و کشمیر میں 2023-24 کے مقابلے میں 2025-26 تک نئے مستفیدین کی تعداد تقریباً 69 فیصد کم ہوئی، جبکہ لداخ میں یہ کمی 97 فیصد سے بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق تین برسوں کے دوران ملک بھر میں اس اسکیم سے مجموعی طور پر 39 لاکھ 85 ہزار 537 افراد مستفید ہوئے، جس کے حساب سے فی ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اوسطاً ایک لاکھ 14 ہزار سے زائد مستفیدین بنتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں جموں و کشمیر کے 2,531 مستفیدین قومی اوسط سے خاصے کم رہے، جبکہ لداخ کے 145 مستفیدین ملک میں سب سے کم اعداد و شمار میں شامل ہیں۔وزارت نے ایوان کو بتایا کہ یکم جون 2020 کو اسکیم کے آغاز سے لے کر 12 جولائی 2026 تک ملک بھر میں 76 لاکھ 95 ہزار اسٹریٹ وینڈرز اس سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ اس عرصے کے دوران ایک کروڑ 15 لاکھ سے زائد قرضے جاری کیے گئے جن کی مجموعی مالیت 18 ہزار 475.06 کروڑ روپے رہی۔وزارت کے مطابق 12 جولائی 2026 تک ایک کروڑ 17 لاکھ 64 ہزار 812 قرضے منظور کیے گئے، جن میں سے ایک کروڑ 15 لاکھ 15 ہزار 856 قرضے تقسیم کیے جا چکے ہیں، جبکہ 56 لاکھ 18 ہزار 24 مستفیدین ڈیجیٹل لین دین کے نظام سے بھی منسلک ہو چکے ہیں۔










