امتحانی پرچوں کے افشا کی روک تھام کے لیے قانون مزید سخت// ڈاکٹر جتندر سنگھ
سرینگر// مرکزی وزیر مملکت برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ارضی علوم، وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ عوامی امتحانات میں پرچوں کے افشا کی روک تھام سے متعلق ترمیمی بل حکومت کی اس واضح پالیسی کا مظہر ہے کہ امتحانی نظام میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا پیپر لیک کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور کسی کو بھی ملک کے نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔یو این ایس کے مطابق راجیہ سبھا میں عوامی امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل 2026 پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت نے حالیہ واقعات کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے قانون کو مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ امتحانی نظام میں شفافیت، دیانت داری اور عوام کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی اور یہی عزم اس ترمیمی بل میں بھی جھلکتا ہے۔جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت کسی بھی معاملے میں انا یا ضد کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی بلکہ تعمیری تجاویز کا خیر مقدم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مختلف سیاسی جماعتوں یا دیگر حلقوں کی جانب سے کوئی مثبت اور قابل عمل تجاویز سامنے آتی ہیں تو حکومت ان پر سنجیدگی سے غور کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے ایوان کو بتایا کہ لوک سبھا اس ترمیمی بل کو بدھ کے روز منظور کر چکی ہے، جبکہ اب راجیہ سبھا میں اس کی مختلف شقوں پر تفصیلی بحث کی جا رہی ہے۔وزیر مملکت نے مختلف ادوار میں امتحانی پرچوں کے افشا کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ کسی ایک حکومت تک محدود نہیں رہا بلکہ ماضی میں بھی ایسے متعدد واقعات پیش آتے رہے ہیں، جن سے لاکھوں طلبہ متاثر ہوئے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایسے مقدمات کی جلد سماعت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پیپر لیک کے معاملات میں ملوث افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے اور طلبہ کو بروقت انصاف مل سکے۔جتیندر سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کا مقصد صرف سخت سزائیں دینا نہیں بلکہ ایسا مضبوط قانونی اور انتظامی نظام قائم کرنا ہے جس سے امتحانات کے انعقاد میں شفافیت برقرار رہے، امیدواروں کا اعتماد بحال ہو اور مستقبل میں ایسے واقعات کی مکمل روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔










