جموں و کشمیر پولیس سروس کے افسران کی’ آئی پی ایس‘ میں ترقی کا معاملہ

جموں و کشمیر پولیس سروس کے افسران کی’ آئی پی ایس‘ میں ترقی کا معاملہ

3 اگست کو ’یو پی ایس سی‘ کی میٹنگ، 8 افسران کی آئی پی ایس میں شمولیت پر فیصلہ متوقع

سرینگر// یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) نے کشمیر پولیس سروس ( کے پی ایس) کے افسران کو انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) میں ترقی کے ذریعے شامل کرنے کے معاملے پر غور کے لیے 3 اگست کو نئی دہلی میں ایک اہم اجلاس طلب کیا ہے، جس میں جموں و کشمیر انتظامیہ کے اعلیٰ سول اور پولیس حکام کے علاوہ مرکزی وزارتِ داخلہ کا ایک نمائندہ بھی شرکت کرے گا۔سرکاری ذرائع کے مطابق وزارتِ داخلہ کی جانب سے 2021، 2022، 2023 اور 2024 کے لیے مجموعی طور پر آٹھ آسامیوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے اور اگر اجلاس میں تمام معاملات طے پا گئے تو اتنے ہی جے کے پی ایس افسران کو آئی پی ایس میں ترقی دے دی جائے گی۔یو این ایس کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ یو پی ایس سی نے اجلاس سے قبل تمام لازمی کارروائی مکمل کر لی ہے، جن میں مختلف محکموں اور اداروں سے عدم اعتراض اسناد (این او سی)، انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) کی کلیئرنس اور قانونی رکاوٹ نہ ہونے سے متعلق دستاویزات شامل ہیں۔اجلاس کی صدارت یو پی ایس سی کے ایک رکن کریں گے جبکہ جموں و کشمیر کی جانب سے چیف سیکریٹری اٹل ڈولو، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلین پربھات، ہوم سیکریٹری چندرکر بھارتی، سول اور پولیس انتظامیہ کے سینئر افسران اور مرکزی وزارتِ داخلہ کا نامزد نمائندہ شریک ہوگا۔ذرائع کے مطابق آٹھ آسامیوں میں سے سلیکٹ لسٹ 2021، دو 2023 اور ایک 2024 کے لیے مختص کی گئی ہے، جبکہ 2022 کے لیے کوئی آسامی مقرر نہیں کی گئی۔ 2015 سے 2020 تک کی سلیکٹ لسٹوں کی پانچ غیر پْر شدہ آسامیوں کو 2021 کی فہرست میں منتقل کر کے دوبارہ مقرر کیا گیا ہے۔آئی پی ایس میں ترقی پانے والے جے کے پی ایس افسران کو دستیاب آسامیوں کے مطابق 2015 اور اس کے بعد کے بیچ الاٹ کیے جائیں گے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تقریباً ساڑھے تین برسوں کے دوران قریب 44 جے کے پی ایس افسران کو آئی پی ایس میں شامل کیا جا چکا ہے، تاہم 2011 سے 2021 تک تقریباً ایک دہائی تک قانونی اور دیگر وجوہات کے باعث یہ عمل تعطل کا شکار رہا۔یو این ایس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد جے کے پی ایس افسران طویل عرصے سے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کے عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور آئی پی ایس میں شمولیت کے بغیر وہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) کے عہدوں پر ترقی نہیں پا سکتے۔ ماضی میں بھی کئی افسران آئی پی ایس میں شامل ہوئے بغیر ایس ایس پی کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔فی الوقت آئی پی ایس کی آسامیوں پر تقرری 67:33 کے تناسب سے کی جاتی ہے، جس کے تحت 67 فیصد نشستیں براہ راست منتخب ہونے والے آئی پی ایس افسران جبکہ 33 فیصد ریاستی پولیس سروس کے افسران کے لیے مختص ہیں۔ ذرائع کے مطابق موجودہ قواعد کے تحت جے کے پی ایس کے چھ افسران کو ڈی آئی جی کے مساوی جبکہ دو افسران کو آئی جی پی کے مساوی عہدوں پر تعینات کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ وہ مقررہ سروس کی شرائط پوری کرتے ہوں۔