جموںوکشمیر بھر میں ہائوسنگ منصوبوں کی مشن موڈ میں تکمیل پر زور
سری نگر// چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے جموںوکشمیر میں پردھان منتری آواس یوجنا ۔اَربن (پی ایم اے وائی ۔یو)کے تحت شہری غریبوں کی خاطر ہائوسنگ سکیموں کی عمل آوری کا جائزہ لینے کے لئے مکانات و شہری ترقی محکمہ (ایچ اینڈ یو ڈِی ڈِی) کی ایک جامع جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ بجلی ترقی،کمشنر سیکرٹری مکانات و شہری ترقی محکمہ، جموں اور سری نگر میونسپل کارپوریشنوں کے کمشنران، منیجنگ ڈائریکٹر جموں و کشمیر ہاؤسنگ بورڈ، ڈائریکٹر جنرل، کوڈز،جموں وکشمیر کے چیف ٹاؤن پلانرز، جموں و کشمیر بینک کے نمائندوں اور دیگر سینئر اَفسران نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کم لاگت مکانات تک رسائی ہرکنبے بالخصوص شہری غریبوں سے تعلق رکھنے والوں کی بنیادی خواہشات اور لازمی ضروریات میں سے ایک ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ کمزور معاشی طبقات سے تعلق رکھنے والے گھرانوں کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ اکثر رہائش سے متعلق اخراجات میں خرچ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے دیگر بنیادی ضروریات کے لئے وسائل محدود رہ جاتے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ پی ایم اے وائی۔اربن ایک انقلابی سماجی فلاحی اقدام ہے جو استفادہ کنندگان کو محفوظ اور باوقار رہائش فراہم کرکے ان کے مالی بوجھ میں نمایاں کمی لاتا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اس سے ایسے کنبے اَپنی محنت کی کمائی کو تعلیم، صحت، غذائیت اور معیارِ زِندگی بہتر بنانے جیسے اہم شعبوں پر خرچ کر سکتے ہیں جو ان کی طویل المدتی سماجی و اِقتصادی ترقی میں معاون ثابت ہوتا ہے۔چیف سیکرٹری نے تمام ضلع ترقیاتی کمشنرں اور میونسپل کارپوریشنوں کے کمشنروں کو ہدایت دی کہ وہ فیلڈ عملے کو مزید متحرک کریں تاکہ درخواستوں کی تصدیق، تفصیلی منصوبہ جاتی رِپورٹوں (ڈِی پی آرز) کی تیاری و پیشکش اور مستفیدین کو وزارتِ مکانات و شہری امور کی ہدایات کے مطابق بروقت اقساط کی فراہمی کو تیز کیا جا سکے۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ ہر اہل شہری غریب گھرانے کو سکیم کے تحت لایا جانا چاہئے جبکہ مکمل شفافیت، جوابدہی اورسکیم میں طے شدہ معیارات کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے۔ اُنہوں نے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ باقاعدہ معائینوں او رپیش رفت کی حقیق وقت میں نگرانی کے لئے ڈیجیٹل پلیٹ فارموںکے مؤثر اِستعمال کے ذریعے فیلڈ لیول کی نگرانی کو مضبوط بنایا جائے۔اَتل ڈولو نے اَفسرا ن کومزید ہدایت دی کہ تمام زیر اِلتوأ مسائل کو بروقت حل کیا جائے، سکیم کے فوائد کے بارے میں عوامی بیداری میں اِضافہ کیا جائے اور تمام طریقۂ کار کو مکمل کرنے میں اہل اِستفادہ کنندگان کو سہولیت فراہم کریں تاکہ کوئی بھی مستحق گھرانہ محروم نہ رہے۔دورانِ میٹنگ کمشنر سیکرٹری مکانات و شہری ترقی محکمہ مندیپ کور نے پی ایم اے وائی۔یو 1.0 اور پی ایم اے وائی۔یو 2.0 کی عمل آوری پر تفصیلی پرزنٹیشن پیش کی جس میں یونین ٹیریٹری کے تمام اَضلاع میں حاصل کردہ طبعی و مالی پیش رفت کو اُجاگر کیا گیا۔اُنہوں نے پی ایم اے وائی۔یو 1.0 کے تحت پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ 36,412 مکانات کے نظرثانی شدہ منظور شدہ ہدف کے مقابلے میں 31,663 مکانات پہلے ہی مکمل ہو چکے ہیںجو تقریباً 87 فیصد تکمیل کی شرح بنتی ہے جبکہ باقی مکانات تعمیر کے مختلف مراحل میں ہیں اور تکمیل کے قریب ہیں۔میٹنگ میں پی ایم اے وائی۔یو 2.0 کے تحت بینیفشری لیڈ کنسٹرکشن (بی ایل سی) جزو کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ اَب تک 92 تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹس (ڈِی پی آرز)جن میں 2,120 مکانات شامل ہیں، منظور کی جا چکی ہیں جبکہ 1,379 مکانات پر تعمیراتی کام شروع ہو چکا ہے اور تعمیراتی کام مختلف مراحل میں مسلسل جاری ہے۔منیجنگ ڈائریکٹر ہائوسنگ بورڈ سمیتا سیٹھی نے اِستفادہ کنندگان کی تصدیق کے حوالے سے میٹنگ کو بتایا کہ بی ایل سی کے تحت 23,256 درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں سے 20,154 کی تصدیق مکمل ہو چکی ہے جبکہ باقی درخواستوں کی جانچ کا عمل جاری ہے۔میٹنگ میں پی ایم اے وائی۔یو 2.0 کے افورڈیبل ہاؤسنگ اِن پارٹنرشپ (اے ایچ پی) اور انٹرسٹ سبسڈی سکیم (آئی ایس ایس) کے تحت پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ ان دونوں اجزأکے تحت موصولہ درخواستوں کی ترجیحی بنیادوں پر تصدیق کی جا رہی ہے تاکہ استفادہ کنندگان کی بروقت منظوری اور سکیم کی مؤثرعمل آوری کو یقینی بنایا جاسکے ۔چیف سیکرٹری نے میٹنگ کے اِختتام پرتفصیلی ضلع وارجائزہ لیتے ہوئے متعلقہ اَفسران کو ہدایت دی کہ منصوبوں کی رفتار مزید تیز کرنے، تمام شراکت داروں کے درمیان تال میل کو بہتر بنانے اور جموں و کشمیر بھر میں پی ایم اے وائی۔یو کے تحت منظور شدہ تمام رہائشی منصوبوں کو مقررہ وقت میں مکمل کرنے کو یقینی بنائیں۔










