جاوید ڈار نے اونی صنعت اور ایچ اے ڈِی پی مداخلتوں کا جائزہ لیا

جاوید ڈار نے اونی صنعت اور ایچ اے ڈِی پی مداخلتوں کا جائزہ لیا

جموںوکشمیرکی اونی صنعت کو عالمی سطح پر مسابقتی بنانے کیلئے جامع روڈمیپ تیار کرنے پر زور

سری نگر// وزیر برائے زرعی پیداوار، دیہی ترقی، پنچایتی راج،اِمدادِ باہمی اورالیکشن محکمہ جات جاوید احمد ڈار نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں جموں و کشمیر میں اونی صنعت کی موجودہ صورتحال اور جامع زرعی ترقیاتی پروگرام (ایچ اے ڈِی پی )کے تحت اینمل ہسبنڈری اور اونی شعبے کو مضبوط بنانے کے لئے جاری 27 مداخلتوں اور منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں فائنانشل کمشنر (ایڈیشنل چیف سیکرٹری) محکمہ زرعی پیداوار ڈاکٹر آشیش چندر ورما، مشن ڈائریکٹر ایچ اے ڈِی پی ساگر دتاترے ڈوئیفوڈے، ڈائریکٹر شیپ ہسبنڈری کشمیر، ڈائریکٹرفائنانس اے پی ڈی، اونی صنعت کے نمائندوں، دیگر سینئر اَفسران اور شراکت داروں نے شرکت کی۔میٹنگ میں موجودہ اونی پیداواری نظام، بنیادی ڈھانچے، اون کی پروسسنگ اور اون کاٹنے کی سہولیات، ایچ اے ڈِی پی مداخلتوں، مارکیٹ سے روابط، ویلیو ایڈیشن اور بھیڑپالن کی آمدنی میں اِضافے اور دیہی نوجوانوں کے لئے دیرپا روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے اَقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔جاوید ڈار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے اونی شعبے کو محض خام مال پر مبنی سرگرمی سے ایک جدید، ویلیو ایڈڈ اور مارکیٹ پر مبنی صنعت میں تبدیل کرنے کے لئے جامع، مربوط اور نتیجہ خیز حکمت عملی اَپنانے کی ضرورت ہے۔ اُنہوںنے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ وہ زیادہ مویشیوں کی تعداد اور اون کی پیداوار کی خاطر خواہ صلاحیت رکھنے والے دیہاتوں او رکلسٹروں کی نشاندہی کریں اور انہیں خصوصی اون پیداوار اور پروسسنگ کلسٹروںکے طور پر ترقی دی جائے۔ اُنہوں نے ان علاقوں میں صلاحیت سازی، جدید مونڈنے کے طریقوں، اون کی درجہ بندی، پروسسنگ، ویلیو ایڈیشن، پیکیجنگ اور مارکیٹنگ پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دی۔جاوید ڈار نے مقامی طور پر تیار ہونے والی اون کے معیار کو بہتر بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے محکمہ کو ہدایت دی کہ بھیڑ پالن، دیہی کاروباری اَفراد اور نوجوانوں کے لئے جدید اون پروسسنگ اور متعلقہ سرگرمیوں پر خصوصی تربیتی پروگرام منعقد کئے جائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پیداوار کے مرحلے پر معیار میں بہتری، جدید پروسسنگ اور مؤثر مارکیٹنگ کے ذریعے جموں و کشمیر اون کی اِقتصادی قدر میں خاطر خواہ اِضافہ ہوگا۔اُنہوں نے اون اور مویشی پروری کے شعبے میں نوجوانوں کی شمولیت پر بھی خصوصی زور دیتے ہوئے اَفسران کو ہدایت دی کہ نوجوانوں کو تربیت، جدید ٹیکنالوجی، مالی معاونت، بنیادی ڈھانچہ اور مارکیٹ سپورٹ فراہم کی جائے تاکہ اون پروسسنگ، ویلیو ایڈیشن اور متعلقہ کاروبار کو ایک دیرپا ذریعہ معاش اور کاروباری سرگرمیوں کے طور پر شروع کیا جا سکے۔وزیر موصوف نے ایچ اے ڈِی پی کے مختلف اجزأ کے تحت مالی معاونت حاصل کرنے والی فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی او) کی سخت نگرانی اور ان کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لینے کی بھی ہدایت دی۔ اُنہوں نے زور دیا کہ سبسڈی اور حکومتی معاونت کا مؤثر اِستعمال یقینی بنایا جائے تاکہ پیداوار، پیداواری صلاحیت، ویلیو ایڈیشن، روزگار اور کسانوں کی آمدنی میں قابلِ پیمائش بہتری آئے۔جاوید ڈار نے محکمہ پشو پالن،جامع زرعی ترقیاتی پروگرام(ایچ اے ڈِی پی)، صنعتی شراکت داروں،ایف پی اوز اور دیگر شراکت داروں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جموں و کشمیر میں ایک مربوط اون ویلیو چین قائم کرنے کی ہدایت دی۔اُنہوں نے افزائش نسل، بھیڑوں کی صحت، سائنسی بنیادوں پر شیئرنگ، اون جمع کرنے، درجہ بندی، پروسسنگ، ویلیو ایڈیشن، برانڈنگ اور مارکیٹ ربط پر مزید توجہ دینے پر زور دیا اور کہا کہ ایک مضبوط ویلیو چین نہ صرف بھیڑ پالنے والوں کی آمدنی میں اِضافہ کرے گا بلکہ دیہی علاقوں میں روزگار اور کاروباری مواقع بھی پیدا کرے گا۔ جاوید ڈار ،’’اونی صنعت بھیڑ پالن، کسانوں اور دیہی نوجوانوں کے لئے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔‘‘ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ اس شعبے کو صرف روایتی پیداوار تک محدود رکھنے کے بجائے ایک تجارتی بنیادوں پر منافع بخش صنعت کے طور پر فروغ دیا جائے۔اُنہوں نے اَفسران کو ہدایت دی کہ ایچ اے ڈِی پی کے تحت منظور شدہ تمام مداخلتوں پر بروقت عمل درآمد، فنڈز کے مؤثر اِستعمال اور باقاعدہ فیلڈ مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جائے۔اِس کے علاوہ ان اقدامات کے بھیڑ پالن معاشی اثرات کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جائے۔اِس سے قبل ڈائریکٹر شیپ ہسبنڈری نے پاور پوائنٹ پرزنٹیشن کے ذریعے بھیڑ بانی اور اونی شعبے کی موجودہ صورتحال، اب تک کی کامیابیوں اور ایچ اے ڈِی پی سمیت مختلف سکیموں کے تحت صنعت کو مضبوط بنانے کے لئے کئے گئے اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ جموں و کشمیر ملک میں بھیڑوں کی سب سے بڑی آبادی میں سے ایک ہے جہاں تقریباً 43 لاکھ بھیڑیں ہیں۔ یونین ٹیریٹری میں سالانہ تقریباً 8.6 ملین کلو گرام اون پیدا ہوتی ہے جس کی اوسط پیداوار تقریباً 1.9 کلوگرام فی بھیڑ سالانہ ہے۔ پیدا ہونے والی اون کا تقریباً 30 فیصد جموں و کشمیر میں ہی استعمال ہوتا ہے جبکہ باقی مقدار بیرونِ جموں و کشمیر فروخت کی جاتی ہے۔میٹنگ کو مزید بتایا گیا کہ اِنٹگریٹیڈ شیپ ڈیولپمنٹ سکیم (آئی ایس ڈِی ایس) اور ایچ اے ڈِی پی کے تحت 50 فیصد سبسڈی کی مدد سے 431 اون شیئرنگ یونٹس قائم کئے جا چکے ہیں۔ ان یونٹس کا مقصد اون کی شیئرنگ کی کارکردگی بہتر بنانا، اون کے معیار میں اضافہ کرنا اور جانوروں کی بہتر بہبود کو یقینی بناناہے۔ڈائریکٹر نے میٹنگ کو ایچ اے ڈِی پی کے تحت بھیڑپالن کی آمدنی میں اضافے اور سائنسی پروسسنگ، ویلیو ایڈیشن اور مؤثر مارکیٹنگ کے ذریعے اون اور کھالوں کو فروغ دینے کے لئے کئے گئے مختلف اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ متعلقہ مداخلتوں کے لئے پانچ سالہ مدت کے دوران 64 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے جس میں سے اب تک 43.57 کروڑ روپے جاری کئے جا چکے ہیں۔