کہا،حکومت ٹیچر کمیونٹی کی فلاح و بہبود کیلئے پُرعزم ہے
سری نگر// وزیر برائے سکولی تعلیم، اعلیٰ تعلیم اور سماجی بہبود سکینہ اِیتو نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت ٹیچر کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لئے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔ اُنہوں نے یقین دِلایا کہ اساتذہ کے تمام حقیقی مسائل اور طویل عرصے سے دیرینہ مطالبات کا ہمدردانہ جائزہ لے کر انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔اُنہوںنے اِن باتوں کا اظہار آج یہاں ٹیچرز بھون بمنہ میں جموں و کشمیر ٹیچرز جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے کے ٹی جے اے سی) کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک روزہ ٹیچرکنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیر موصوفہ نے اَپنے خطاب میں قوم کی تعمیر اور سماجی ترقی میں اساتذہ کے بے مثال کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اَساتذہ نئی نسل کی تربیت، ان میں اقدار،علم اور کردار پیدا کرکے معاشرے کے مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار اَدا کرتے ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’ہماری قوم کا مستقبل اساتذہ کے ہاتھوں میں ہے جن کی لگن اور عزم نے لاتعداد طالب علموں کو مختلف شعبوں میں کامیابی حاصل کرنے اور معاشرے میں بامعنی کردار ادا کرنے کے قابل بنایا ہے۔‘‘سکینہ اِیتو نے مزید کہا کہ محکمہ سکولی تعلیم نے انسانی وسائل کے بہتر انتظام، ضلعی سطح پر اِنتظامی نظام کو مضبوط بنانے اور طویل عرصے سے زیر اِلتوا ٔسروس معاملات کو مقررہ مدت میں نمٹانے کے کیت متعدد انتظامی اصلاحات نافذ کی ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ محکمہ نے اعلیٰ ثانوی سکولوں میں تدریسی عملے کی کمی کو پورا کرنے کے لئے اہل پی جی ماسٹروںاور پی جی اساتذہ کو اِن چارج لیکچرروں کے طور پر تعینات کرنے کا عمل بھی شروع کیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ایک اہم انتظامی پیش رفت کے طور پر 36 میں سے 31 مضامین کی تازہ ترین حتمی سینارٹی لسٹ جن میں 20,281 پی جی ماسٹروں اور پی جی اساتذہ شامل ہیں، کئی برسوں بعد جاری کی گئی ہیں۔ اِس کے علاوہ 3,509 ہیڈ ماسٹروں کی حتمی سینارٹی لسٹ بھی جاری کر دی گئی ہے۔وزیر تعلیم نے کہا،‘‘محکمہ نے تعلیمی انتظامیہ کو مزید مضبوط بنانے کے لئے 136 سینئر لیکچرروں کو اِن چارج پرنسپل، 22 پرنسپلوں کو اِن چارج چیف ایجوکیشن آفیسر اور 1,083 ماسٹروں کو اِن چارج ہیڈ ماسٹر کے طور پر تعینات کیا ہے۔‘‘اُنہوں نے مزید کہا کہ خالی تدریسی اَسامیوں کو پُر کرنے کے لئے 27 مضامین میں لیکچرروں کی 594 اَسامیوں کو جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن کے سپرد کیا گیا جس نے 26 مضامین میں 537 اُمیدواروں کی سفارش کی ہے۔وزیر موصوفہ نے ٹیچرکمیونٹی کو درپیش مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اساتذہ جنہوں نے اپنی زندگی معیاری تعلیم کی فراہمی کے لئے وقف کی ہیں، ان کے جائز مسائل کو مناسب اہمیت دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت اساتذہ کو درپیش مشکلات سے پوری طرح آگاہ ہے اور انہیں شفاف اور مقررہ مدت میں حل کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔اُنہوں نے سروس سے متعلق مختلف معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے سامنے پیش کئے گئے تمام جائز مطالبات کا ہمدردی اور سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔ اُنہوں نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ کہ محکمہ سکولی تعلیم جموں و کشمیر میں تعلیمی شعبے کو مزید مضبوط بناتے ہوئے اساتذہ کے مفادات کے تحفظ کے لئے پُرعزم ہے۔سکینہ اِیتونے کنونشن کے دوران اساتذہ کی جانب سے پیش کئے گئے مسائل کو بغور سنا اور یقین دلایا کہ حکومت تمام شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھے گی تاکہ اساتذہ کے حقیقی مسائل کو حل کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے تعلیمی نظام کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔اِس موقعہ پروزیر تعلیم نے مختلف اُمیدواروں کو تقرری نامے اور متعد د اَفسران کو ترقی کے احکامات بھی تفویض کئے۔کنونشن میں سپیشل سیکرٹری محکمہ سکولی تعلیم غلام رسول میر، ڈائریکٹر سکولی تعلیم کشمیر نذیر احمد وانی، چیف ایجوکیشن آفیسر سری نگر، محکمہ سکولی تعلیم کے سینئر اَفسران اور جموں و کشمیر بھر سے ٹیچر کمیونٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔










