ستیش شرما نے ٹرانسپورٹ سیکٹر کا جائزہ لیا

ستیش شرما نے ٹرانسپورٹ سیکٹر کا جائزہ لیا

ٹیکنالوجی پر مبنی عوام دوست اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ پبلک ٹرانسپورٹ نظام پر زور

سری نگر// وزیر برائے خوراک، شہری رسدات و امورِ صارفین، اِنفارمیشن ٹیکنالوجی، امورِ نوجوان و کھیل کود ، ٹرانسپورٹ اور سائنس و ٹیکنالوجی محکمہ جات ستیش شرما نے جموں و کشمیر روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (جے کے آر ٹی سی)، محکمہ ٹرانسپورٹ، موٹر وہیکلز ڈیپارٹمنٹ (ایم وِی ڈِی) اور سٹیٹ موٹر گیراجز (ایس ایم جی) کے کام کاج اور کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لینے کے لئے متعدد میٹنگوں صدارت کی۔ اِس موقہ پر اُنہوں نے ٹیکنالوجی پر مبنی اِصلاحات، بہتر عوامی خدمات، جدید بنیادی ڈھانچے اور جموں و کشمیر میں دیرپا ٹرانسپورٹ نظام کی ترقی کے لئے ایک جامع روڈ میپ بھی پیش کیا۔اُنہوںنے ٹرانسپورٹ سیکٹر کے تحت کام کرنے والے مختلف اِداروں کی عملی کارکردگی، مالی صورتحال، اَفرادی قوت، بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹل اَقدامات، نفاذ کے طریقۂ کار، سڑکوں کی حفاظت، فلیٹ مینجمنٹ اور مستقبل میں توسیعی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔وزیر موصوف نے کہا کہ مؤثر، محفوظ اور قابلِ اعتماد ٹرانسپورٹ نظام اِقتصادی ترقی اور عوامی فلاح کے لئے ناگزیر ہے اور محکمہ ٹرانسپورٹ کے تحت ہر ادارے کو جدید، ٹیکنالوجی سے لیس اور عوامی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا تاکہ لوگوں کی بڑھتی ہوئی سفری ضروریات پوری کی جا سکیں۔اُنہوںنے جے کے آر ٹی سی کے کام کاج کا جائزہ لیتے ہوئے اس کی اپریشنل کارکردگی، روٹس کی کوریج، دستیاب گاڑیوں، عملے کی صورتحال، مالی کارکردگی اور مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔وزیر موصوف نے موجودہ فلیٹ اور آپریشنل ضروریات کے درمیان فرق کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اَفسروں کو ہدایت دی کہ وہ مقررہ مدت کے اندر فلیٹ میں اضافہ، پسماندہ علاقوں تک خدمات کی توسیع اور دستیاب بسوں اور ٹرکوں کے مؤثر اِستعمال کے لئے منصوبہ تیار کریں۔انہوں نے کارپوریشن کی بہتر ہوتی ہوئی کارکردگی کو سراہتے ہوئے روٹوں کی مؤثر منصوبہ بندی، وسائل کے دانشمندانہ انتظام اور مالی استحکام کو بڑھانے کے لئے مسلسل کوششوں پر زور دیا۔اُنہوںنے خواتین کے لئے مفت بس سفر کی کامیاب سکیم کا بھی جائزہ لیا اور کہا کہ عوامی فلاح کے ایسے اقدامات جاری رہنے چاہئیں، تاہم ادارے کی مالی دیرپای کو بھی یقینی بنایا جائے۔
ستیش شرما نے ڈیجیٹل تبدیلی کی اہمیتک کو اُجاگر کرتے ہوئے انٹلی جنٹ ٹرانسپورٹ مینجمنٹ سسٹم (آئی ٹی ایم ایس) کی فوری عمل آوری کی ہدایت دی جس میں جی پی ایس کے ذریعے گاڑیوں کی نگرانی، الیکٹرانک ٹکٹنگ، مسافروں کو حقیقی وقت میں معلومات کی فراہمی اور جدید نگرانی کے نظام شامل ہوں تاکہ شفافیت، آپریشنل کارکردگی اور مسافروں کی سہولیت میں اضافہ ہو۔اُنہوں نے الیکٹرک بسوں کی شمولیت، اِی وِی چارجنگ انفراسٹرکچر کی تعمیر اور اثاثوں سے آمدنی بڑھانے کے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا اور کہا کہ ان اَقدامات سے جموں و کشمیر میں ماحول دوست عوامی ٹرانسپورٹ کو نمایاں فروغ ملے گا۔وزیرٹرانسپورٹ نے محکمہ ٹرانسپورٹ اور موٹر وہیکلز ڈیپارٹمنٹ کے نفاذی نظام، آمدنی، گاڑیوں کی رجسٹریشن، ڈرائیونگ لائسنس اور پرمٹ کے اجرأ، سڑکوں کی حفاظت سے متعلق اقدامات اور اہم ٹرانسپورٹ منصوبوں کا جائزہ لیا۔میٹنگ کے شروعات میںاسسٹنٹ ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسر ( اے آر ٹی او) آنجہانی جوگل کشور شرما کی خدمات کے اعتراف میں دو منٹ کی خاموشی اِختیار کی گئی۔ستیش شرما نے کہا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کو ایک ایسی ٹیکنالوجی پر مبنی ادارہ بننا چاہیے جو عوام کو شفاف، مؤثر اور آسان خدمات فراہم کرے۔ اُنہوں نے آن لائن خدمات میں توسیع، درخواستوں کی بروقت تکمیل اور عوام دوست ڈیجیٹل پلیٹ فارمو کی مؤثر عمل آوری کی ہدایت دِی۔اُنہوں نے سڑک حادثات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں کا تحفظ اوّلین ترجیح ہونی چاہیے۔ اُنہوں نے ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد، سائنسی بنیادوں پر روڈ سیفٹی اقدامات، وسیع پیمانے پربیداری مہمات اور مختلف محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ بڑھانے کی ہدایت دی تاکہ حادثات اور اموات میں کمی لائی جا سکے۔ وزیر موصوف نے کہا،’’سڑک حادثے میں ضائع ہونے والی ہر جان ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ بہتر نفاذ، بہتر بنیادی ڈھانچہ اور ذمہ دارانہ ڈرائیونگ ہی اس کا مؤثر حل ہیں۔‘‘اُنہوں نے بار بار ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیوں جن میں ڈرائیونگ لائسنس کی معطلی، رجسٹریشن کی منسوخی اور خصوصی مہمات شامل ہیں، کا بھی جائزہ لیا اور اس بات کو سراہا کہ محکمہ صرف جرمانے عائد کرنے کے بجائے سڑکوں کی حفاظت کے اصولوں پر عمل درآمد کو ترجیح دے رہا ہے۔اُنہوں نے رجسٹرڈ وہیکل سکریپنگ فیسلٹیز (آر وِی ایس ایف)، آٹومیٹیڈ ٹیسٹنگ سٹیشنز (اے ٹی ایس)، اِنسٹی چیوٹ آف ڈرائیور ٹریننگ اینڈ ریسرچ، سانبہ میں انسپکشن اینڈ سرٹیفکیشن سینٹر، ای۔ڈی اے آر پلیٹ فارم، سڑک حادثات کے متاثرین کے لئے پی ایم راحت سکیم اور حادثات کے شکار مقامات کی نشاندہی و اصلاح جیسے اہم منصوبوں کا بھی جائزہ لیا۔
وزیر ٹرانسپورٹ ستیش شرما نے سٹیٹ موٹر گیراجز ڈیپارٹمنٹ کے کام کاج کا جائزہ لیتے ہوئے اس کے تنظیمی ڈھانچے، بیڑے کے انتظام، گاڑیوں کی مینی ٹیننس، ورکشاپ کے بنیادی ڈھانچے، خریداری کے عمل، ناکاری گاڑیوں کی نیلامی، افرادی قوت کی پوزیشن اور آمدنی پیدا کرنے کا جائزہ لیا۔اُنہوں نے کہا،’’سٹیٹ موٹر گیراجز ڈیپارٹمنٹ کو بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی اور انتظامی ضروریات کے مطابق خود کو مسلسل اپ ڈیٹ کرنا ہوگا۔ ہمارا مقصد گاڑیوں کے غیر ضروری تعطل کو کم کرنا، مینی ٹیننس کے معیار کو بہتر بنانا اور ایک پیشہ ورانہ ٹرانسپورٹ سپورٹ سسٹم بنانا ہے۔‘‘وزیرموصوف نے مرحلہ وار ایندھن کی بچت کرنے والی اور ماحول دوست گاڑیوں کی شمولیت، جدید تشخیصی آلات اور مرمتی ٹیکنالوجی سے ورکشاپوں کو اپ گریڈ کرنے کی ہدایت دی۔اُنہوں نے ڈرائیوروں، مکینکس اور تکنیکی عملے کی کمی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بھرتیوں کے عمل کو تیز کرنے اور انسانی وسائل کو مضبوط بنانے کی ہدایت دی۔ اُنہوں نے جدید آٹوموبائل ٹیکنالوجی اور مرمتی طریقوں سے متعلق تربیتی پروگرام باقاعدگی سے منعقد کرنے پر بھی زور دیا۔ ستیش شرما نے انتظامی اصلاحات اور مؤثر عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ٹرانسپورٹ سیکٹر کے تمام محکموں کو نتیجہ خیز طرزِ عمل اختیار کرنے، ہر سطح پر جوابدہی مضبوط بنانے اور عوامی وسائل کے بہترین استعمال کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔میٹنگ میں سیکرٹری ٹرانسپورٹ اونی لاواسا، ٹرانسپورٹ کمشنر وشیش پال مہاجن، منیجنگ ڈائریکٹر جے کے آر ٹی سی اے آر وار، ڈائریکٹر سٹیٹ موٹر گیراجز طاہر ملک، آر ٹی او کشمیر، جموں اور کٹھوعہ سمیت محکمہ ٹرانسپورٹ، جے کے آر ٹی سی، موٹر وہیکلز ڈیپارٹمنٹ اور سٹیٹ موٹر گیراجز کے دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔