ماہی پروری کیلئے 706 کروڑ روپے کے منصوبوں کی منظوری

ٹراؤٹ، گولڈن مہاشیر اور سنو ٹراؤٹ کی پیداوار بڑھانے پر توجہ// مرکزی وزیرللن سنگھ

سرینگر// مرکزی حکومت نے ہمالیائی اور پہاڑی ریاستوں میں سرد پانی کی ماہی پروری (کولڈ واٹر فشریز) کے فروغ کیلئے 706 کروڑ روپے مالیت کے مختلف منصوبوں کی منظوری دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ اور لداخ کے ضلع کرگل کو ملک کے چار خصوصی کولڈ واٹر فشریز کلسٹرز میں شامل کیا گیا ہے، جہاں جدید انفراسٹرکچر، نئی ٹیکنالوجی اور ویلیو چین کی ترقی کے ذریعے مچھلی پروری کے شعبے کو فروغ دیا جائے گا۔یو این ایس کے مطابق راجیہ سبھا میں رکن پارلیمان ونود شری دھر تاوڑے کے غیر ستارہ سوال کے جواب میں مرکزی وزیر برائے ماہی پروری، مویشی پالنا اور ڈیری راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے بتایا کہ محکمہ ماہی پروری پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا اور فشریز اینڈ ایکوا کلچر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ کے تحت سرد پانی کی مچھلی پروری کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے بنیادی ڈھانچے، جدید ٹیکنالوجی اور مارکیٹنگ نظام کو مضبوط بنا رہا ہے۔وزیر نے کہا کہ 20,050 کروڑ روپے کی لاگت سے نافذ کی جا رہی پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت ملک کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مچھلی کی پیداوار، جدید ٹیکنالوجی، بعد از برداشت (پوسٹ ہارویسٹ) انفراسٹرکچر، ویلیو چین، ٹریس ایبلٹی، ماہی پروری کے انتظام اور ماہی گیروں کی فلاح سے متعلق خامیوں کو دور کرنے کیلئے مختلف منصوبے عمل میں لائے جا رہے ہیں، جن میں سرد پانی کی مچھلی پروری بھی شامل ہے۔یو این ایس کے مطابق جواب میں مزید بتایا گیا کہ حکومت نے سرد پانی کی مچھلی پروری کیلئے چار خصوصی کلسٹرز کی نشاندہی کی ہے، جن میں جموں و کشمیر کا ضلع اننت ناگ، اتراکھنڈ کا پتھورا گڑھ، لداخ کا کرگل اور ہماچل پردیش کا کلو شامل ہیں۔راجیو رنجن سنگھ نے کہا کہ محکمہ ماہی پروری دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں مچھلی پروری کو جدید بنانے کیلئے ری سرکولیٹری ایکوا کلچر سسٹم بائیوفلاک ٹیکنالوجی، کیج کلچر، انٹرنیٹ آف تھنگز پر مبنی پانی کے معیار کی نگرانی، جی آئی ایس میپنگ، خودکار فیڈر اور ڈیجیٹل مارکیٹ پلیٹ فارمز کو فروغ دے رہا ہے تاکہ سپلائی چین مضبوط ہو اور ماہی پروروں کو بہتر منڈیوں تک رسائی حاصل ہو۔انہوں نے مزید بتایا کہ پی ایم ایم ایس وائی کے تحت آئی سی اے آر۔سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف کولڈ واٹر فشریز ریسرچ بھیم تال نے ٹراؤٹ کی تجارتی پیداوار اور گولڈن مہاشیر کی سال بھر افزائش کیلئے جدید ماڈل تیار کیا ہے، جبکہ آئی سی اے آر۔سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف فشریز ٹیکنالوجی کوچی نے ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں مچھلی کی پراسیسنگ اور ریڈی ٹو ایٹ سہولیات کے قیام میں بھی تعاون فراہم کیا ہے۔