جموں و کشمیر میں 300 ہیکٹر روایتی باغات ہائی ڈینسٹی نظام میں تبدیل

جموں و کشمیر میں 300 ہیکٹر روایتی باغات ہائی ڈینسٹی نظام میں تبدیل

5برس میں 909 ہیکٹر پر نئے ہائی ڈینسٹی باغات قائم// مرکزی وزارت زراعت

سرینگر// مرکزی حکومت نے راجیہ سبھا کو بتایا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران جموں و کشمیر میں تقریباً 300 ہیکٹر روایتی سیب اور اخروٹ کے باغات کو ہائی ڈینسٹی باغبانی میں تبدیل کیا گیا، جبکہ 909.13 ہیکٹر رقبے پر نئے ہائی ڈینسٹی باغات قائم کیے گئے ہیں۔ یہ پیش رفت مرکزی اور جموں و کشمیر حکومت کی مختلف باغبانی اسکیموں کے تحت عمل میں آئی ہے۔یو این ایس کے مطابق یہ معلومات وزیر مملکت برائے زراعت و کسانوں کی بہبورام ناتھ ٹھاکر نے رکن پارلیمان چودھری محمد رمضان کے غیر ستارہ سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔وزیر نے بتایا کہ مشن فار انٹیگریٹڈ ڈیولپمنٹ آف ہارٹیکلچر کے تحت نئے باغات لگانے اور پرانے و کم پیداوار والے باغات کی تجدید کے لیے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر حکومت ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن اسکیم، ہولسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام اور جموں و کشمیر کمپیٹیٹیونس امپروومنٹ آف ایگریکلچر اینڈ الائیڈ سیکٹرز پروجیکٹ کے ذریعے بھی جدید باغبانی کو فروغ دے رہی ہے۔حکومت نے بتایا کہ ’ایم آئی ڈی ایچ‘اور نیشنل ہارٹیکلچر بورڈ کے تحت باغبانوں کو منصوبے کی لاگت پر 50 فیصد سبسڈی دی جاتی ہے، جبکہ باقی رقم وہ ذاتی وسائل یا بینک قرض کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح جموں و کشمیر کی ترمیم شدہ ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن اسکیم کے تحت مستحق باغبان منصوبے کی لاگت کا 80 فیصد تک ادارہ جاتی قرض بھی حاصل کر سکتے ہیں۔مرکزی حکومت کے مطابق معیاری اور بیماریوں سے پاک پودوں کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے جدید نرسریوں، روٹ اسٹاک بینکس اور درآمد شدہ پودوں کے لیے پوسٹ انٹری قرنطینہ مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ واٹر ہارویسٹنگ ڈھانچوں، ڈرپ آبپاشی، اینٹی ہیل نیٹس اور ملچنگ جیسی سہولیات کے لیے بھی مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں اور غیر موسمی خشک سالی سے باغبانی کے شعبے کو محفوظ بنایا جا سکے۔وزیر نے تاہم واضح کیا کہ ’ایم آئی ڈی ایچ‘کے تحت روایتی اخروٹ کے باغات کو ہائی ڈینسٹی نظام میں تبدیل کرنے سے متعلق الگ اعداد و شمار جمع نہیں کیے جاتے۔