بارشوں کا سلسلہ جاری،بیشتر دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی خطرے کی حد سے نیچے
سرینگر// جموں و کشمیر میںہفتہ کے روز بھی وادی کشمیر کے بیشتر علاقوں میں وقفے وقفے سے ہلکی اور درمیانی شدت کی بارش کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ بعض مقامات پر تیز بارش بھی ریکارڈ کی گئی۔ اگرچہ دریائے جہلم اور دیگر آبی گزرگاہوں میں پانی کی سطح مجموعی طور پر کم ہو رہی ہے، تاہم محکمہ موسمیات اور فلڈ کنٹرول حکام کا کہنا ہے کہ بارش کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں آنے والے گھنٹوں کے دوران بعض دریاؤں، ندی نالوں اور برساتی آبگاہوں میں پانی کی سطح دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ حکام نے بالخصوص نشیبی علاقوں، ندی نالوں کے کناروں اور لینڈ سلائیڈ سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے افراد کو چوکس رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ گزشتہ کئی روز سے جاری شدید بارشوں کے بعد وادی کشمیر میں عمومی سیلاب کا خطرہ کافی حد تک ٹل گیا ہے۔ محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول کے مطابق دریائے جہلم سمیت بیشتر دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح مسلسل کم ہو رہی ہے، جبکہ محکمہ موسمیات نے بھی واضح کیا ہے کہ وادی میں بڑے پیمانے پر دریاوی سیلاب کا فوری خطرہ نہیں رہا۔ تاہم ہلکی سے درمیانی بارش، بعض مقامات پر موسلادھار بارش، لینڈ سلائیڈ، پتھر گرنے اور مقامی سطح پر اچانک سیلاب کے خدشات بدستور برقرار ہیں۔یو این ایس کے مطابق محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول کے مطابق دریائے جہلم کے سنگم گیجنگ اسٹیشن پر پانی کی سطح 15.56 فٹ ریکارڈ کی گئی، جو وارننگ حد سے نیچے ہے، جبکہ پانپور میں پانی کی سطح 19.50 فٹ اور رام منشی باغ میں 18.00 فٹ ریکارڈ کی گئی، جہاں دریا بدستور وارننگ لیول پر بہہ رہا ہے، تاہم دونوں مقامات پر بھی پانی کی سطح میں مسلسل کمی کا رجحان برقرار ہے۔ اسی طرح عشم میں پانی کی سطح 12.92 فٹ ریکارڈ کی گئی، جبکہ وولر جھیل، ویشو نالہ (خدوانی)، رمبی آرا نالہ (واچی)، لیدر نالہ (بٹکوٹ)، دودھ گنگا (برینوار)، دچی گام نالہ، ایرن نالہ (پپچن)، آری پل نالہ (پستونہ)، رومشی نالہ (اگلر)، رومشی نالہ (پوہو)، ارو نالہ (پہلگام) اور شیش ناگ نالہ (بیٹاب ویلی) میں بھی پانی کی سطح متعلقہ وارننگ گیج سے نیچے رہی۔ وولر جھیل، لیدر نالہ، ایرن نالہ، آری پل نالہ، رومشی نالہ (اگلر)، ارو نالہ اور شیش ناگ نالہ میں پانی کی سطح میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ویشو نالہ، رمبی آرا، دودھ گنگا، دچی گام نالہ، رومشی نالہ (پوہو)، سنگم، پانپور اور رام منشی باغ میں پانی کی سطح میں کمی کا رجحان برقرار رہا۔محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول نے کہا ہے کہ اس وقت نہ کشمیر اور نہ ہی جموں ڈویڑن میں بڑے پیمانے پر دریاوی سیلاب کا کوئی فوری خطرہ ہے، تاہم تمام گیجنگ اسٹیشنوں پر مسلسل نگرانی جاری ہے اور موسم کی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ادھر محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ ہفتہ کے روز جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش متوقع ہے، جبکہ چند مقامات پر موسلادھار بارش بھی ہو سکتی ہے۔ محکمہ نے خبردار کیا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈ، پتھر گرنے اور مقامی سطح پر اچانک سیلاب کا خطرہ برقرار ہے، اس لیے عوام، خصوصاً ندی نالوں کے کناروں، نشیبی علاقوں اور حساس پہاڑی راستوں پر رہنے والے افراد کو انتہائی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔دریں اثنا، مسلسل بارشوں کے باعث جانی و مالی نقصانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ راجوری ضلع کے ھنہ منڈی علاقے کے بھاٹیان گاؤں میں ہفتہ کو شدید بارش کے باعث ایک رہائشی مکان اچانک منہدم ہو گیا۔ اطلاعات کے مطابق حادثے کے وقت خاندان کے افراد باورچی خانے میں موجود تھے کہ مکان اچانک زمین بوس ہوگیا۔یو این ایس کے مطابق اس حادثے میں شاہدہ پروین زوجہ عبدالرحمن جاں بحق ہوگئیں، جبکہ خاندان کے دو دیگر افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) راجوری منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ حکام کے مطابق مکان مسلسل بارشوں کے باعث کمزور ہونے کے بعد منہدم ہوا، جبکہ پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مزید قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔اگرچہ دریائے جہلم اور وادی کے دیگر دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح میں کمی آنے سے لوگوں نے کسی حد تک راحت کی سانس لی ہے، تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ موسم مکمل طور پر معمول پر آنے تک احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ناگزیر ہے۔ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم اور فلڈ کنٹرول حکام کی جانب سے جاری کردہ تازہ ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر مقامی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔










