سر ی نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے جھیل ڈل کے کنارے ریڈنگ میراتھن کو جھنڈی دِکھا کر روانہ کیا جو علم ،فِٹنس اور ماحولیاتی ذمہ داری کے منفرد اِمتزاج کی علامت ہے ۔ یہ تقریب نیشنل بُک ٹرسٹ کی جانب سے ’’ ایجوکیشن وویک ‘‘کے تحت منعقد کی گئی جو قومی تعلیمی پالیسی (این اِی پی) کی کامیاب عمل آوری کے چھ برس مکمل ہونے پر منائی جارہی ہے۔اُنہوں نے جموں و کشمیر کے مختلف کالجوں اوریونیورسٹیوں سے آئے ہزاروں طالب علموں سے خطاب کرتے ہوئے اِجتماعی سیکھنے اور سماجی ذِمہ داری کی علامت کے طور پر ریڈنگ میراتھن کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’تعلیم کو صرف کتابوں اور اِمتحانی ہالوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے کھیل کے میدانوں، سماجی سرگرمیوں اور روزمرہ زِندگی کا حصہ بننا چاہیے۔ آج کی ریڈنگ میراتھن اسی ویژن کی بہترین مثال ہے۔‘‘ریڈنگ میراتھن نے’’سبز مستقبل کے لیے دوڑنا‘‘ کا پیغام عام کیا۔ لیفٹیننٹ گورنر نے اس نعرے کوزندگی کا فلسفہ قرار دیا ۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ علم کے فروغ اور ماحولیات کے تحفظ، دونوں کے لئے صبر، نظم و ضبط اور مسلسل اِجتماعی کوشش ناگزیر ہے۔اُنہوں نے کہا، ’’مطالعہ ہمارے خیالات کو تقویت بخشتا ہے ، دوڑنا ہمارے جسم کو مضبوط بناتا ہے اورفطرت کی حفاظت کا جذبہ ہمارے ضمیر کو بیدار کرتا ہے۔ یہ تینوں عناصر مل کر معاشرے کو مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے نوجوان شرکأسے تین اہم عہد تین اہم عہد لینے کی بھی اپیل کی ۔اُنہوں نے نوجوانوں سے مطالعہ کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے، اَپنی عملی زندگی میں ماحولیاتی تحفظ کو اَپنانے اور میراتھن کے جذبے کو معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے تاحیات عزم میں بدلنے پر زور دِیا۔اُنہوں نے کہا ،’’معاشرے کے لئے کچھ اچھا کرنے کے جذبے کو زندگی بھر کا عزم بننے دیں۔ میرا ماننا ہے کہ صرف کتابیں پڑھنا کافی نہیں ہے۔ حقیقی تعلیم یہ ہے کہ آپ نے جو پڑھا ہے اس کو عملی جامہ پہنایا جائے، موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں کتاب پڑھنا آسان ہے لیکن ان الفاظ کو پڑھنے کے بعد یہ فیصلہ کرنا کہ میں خود پانچ کلومیٹر دوڑوں گا، فطرت کے تحفظ کا پیغام پھیلاؤں گا اور اَپنی زِندگی میں تبدیلیاں لاؤں گا، یہی حقیقی تبدیلی ہے۔ آج آپ سب نے تبدیلی کی راہ کا اِنتخاب کیا ہے اور یہی چنار بُک فیسٹول کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے وِجے دیوس کے موقعہ پر کرگل جنگ میں لڑنے والے نوجوان فوجیوں کی بہادری کا بھی ذِکر کیا، اور جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو یاد دِلایا کہ نظم و ضبط،قائدانہ صلاحیت اور’’ قوم پہلے‘‘ کا جذبہ نئی تاریخ رقم کر سکتا ہے۔اُنہوں نے کہا،’’کرگل جنگ میں ملک کا دفاع کرنے والے زیادہ تر فوجی اور اَفسران 20 سے 25 سال کی عمر کے نوجوان تھے ۔ کیپٹن وکرم بترا، منوج کمار پانڈے اور کیپٹن انوج نیر جیسے ہیروز کی داستانیں نوجوانوں کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ صحیح سمت اور جذبے کے ساتھ نوجوان نئی تاریخ رقم کر سکتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ریڈنگ میراتھن‘‘ قوم پہلے‘‘ سوچ ،’ہار نہ ماننے‘کے رویّے اور نظم و ضبط اور قیادت کے جذبے کو پھیلائے اور جموں و کشمیر کے ہر نوجوان کے دل میں قومی خدمت کا جذبہ روشن کرے۔‘‘فلیگ آف تقریب میںچیف کنوینئر چنار بک فیسٹیول ڈاکٹر امیت وانچو، سی اِی او بسلیری اِنٹرنیشنل پرائیویٹ لمیٹڈ ڈاکٹر اینجلو جارج،ضلع ترقیاتی کمشنر سری نگر اَکشے لابرو، ایس ایس پی سری نگر ڈاکٹر جی وِی سندیپ چکرورتی، سینئر سرکاری اَفسران، نیشنل بُک ٹرسٹ کے اراکین، مختلف تعلیمی اِداروں کے سربراہان، ممتاز اَدبی شخصیات، اَساتذہ اور طلبأ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔










