ایئرلائن شروع کرنے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں:اڈانی گروپ

ایئرلائن شروع کرنے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں:اڈانی گروپ

نئی دہلی/یو این آئی// ہوائی اڈوں کی تعمیر اور ان کے انتظام سمیت مختلف شعبوں میں سرگرم اڈانی گروپ نے میڈیا میں شائع ہونے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ گروپ ایک نئی ایئرلائن شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے ۔ گروپ نے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے کوئی بھی تجویز زیرِ غور نہیں ہے ۔ گروپ کے ترجمان نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ میڈیا میں سامنے آنے والی یہ تمام رپورٹس بے بنیاد، قیاس آرائی پر مبنی اور حقائق کے منافی ہیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ موجودہ قوانین کے مطابق ملک میں کوئی بھی ہوائی اڈہ چلانے والی کمپنی کسی ایئرلائن میں 10 فیصد سے زیادہ حصص نہیں رکھ سکتی۔ حال ہی میں بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حکومت فضائی سفر کے شعبے میں ایک یا دو کمپنیوں کی اجارہ داری کم کرنے اور مسابقت بڑھانے کے لیے شہری ہوا بازی کے قوانین میں تبدیلی پر غور کر رہی ہے ، تاکہ ہوائی اڈوں کے آپریٹروں کو بھی ایئرلائن شروع کرنے کی اجازت دی جا سکے ۔ ان رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ اس تبدیلی سے اڈانی گروپ اور جی ایم آر جیسے ملک کے بڑے ہوائی اڈہ آپریٹرز کو فائدہ ہو سکتا ہے ۔ اڈانی گروپ کے ترجمان نے کہا کہ ہم میڈیا میں شائع ہونے والی ان خبروں اور بازار میں گردش کرنے والی قیاس آرائیوں کی واضح طور پر تردید کرتے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اڈانی انٹرپرائزز ایئرلائن شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
یہ تمام رپورٹس مکمل طور پر بے بنیاد اور حقیقت کے خلاف ہیں۔ اڈانی انٹرپرائزز ایئرلائن کے کاروبار میں داخل ہونے کی کسی بھی تجویز پر غور نہیں کر رہی۔”
اس وقت مسافروں کی تعداد کے لحاظ سے انڈیگو اور ایئر انڈیا کے پاس ملکی فضائی سفر کی 90 فیصد سے زیادہ مارکیٹ ہے ، جبکہ انڈیگو اکیلے 65 فیصد سے زیادہ مارکیٹ پر قابض ہے ۔
گزشتہ سال دسمبر کے پہلے ہفتے میں انڈیگو کی جانب سے اچانک سیکڑوں پروازیں منسوخ کیے جانے کے بعد ہزاروں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسی کے بعد سے فضائی شعبے میں مسابقت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے ۔