شاہراہ کی بحالی کیلئے کام جنگی بنیادوں پر جاری، محفوظ قرار دینے کے بعد ہی ٹریفک بحال ہوگی
سرینگر// پیر پنچال کے آر پارمسلسل بارشوں کے باعث جموں،سرینگر قومی شاہراہ جمعہ کو بھی ٹریفک کے لیے بند رہی، جبکہ ادھم پور اور رام بن اضلاع میں متعدد حساس مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور پہاڑیوں سے مسلسل پتھر گرنے کے باعث بحالی کا کام شدید متاثر ہوا۔ حکام کے مطابق خراب موسم اور وقفے وقفے سے پتھر گرنے کا سلسلہ جاری رہنے کے باعث شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت کو محفوظ نہیں سمجھا جا رہا۔یو این ایس کے مطابق ٹریفک حکام نے بتایا کہ رام بن ضلع کے تریشول موڑ سمیت کئی متاثرہ مقامات پر ملبہ ہٹانے اور شاہراہ بحال کرنے کا کام جاری ہے، تاہم مسلسل بارش اور بار بار لینڈ سلائیڈنگ ہونے سے بحالی کی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔حکام کے مطابق مسلسل بارش کے نتیجے میں شاہراہ کے مختلف کمزور مقامات پر چٹانیں اور مٹی کھسکنے کے واقعات رونما ہوئے، جس سے نہ صرف ٹریفک متاثر ہوئی بلکہ مسافروں کی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔انتظامیہ نے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا کو صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے، جس کے بعد ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری مشینری اور متعلقہ عملہ متاثرہ مقامات پر تعینات کیا گیا ہے تاکہ شاہراہ کو جلد از جلد ٹریفک کے لیے بحال کیا جا سکے۔ٹریفک پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے مسافروں، ٹرانسپورٹروں اور عام شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اگلے احکامات تک جموں۔سرینگر قومی شاہراہ پر غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سفر شروع کرنے سے قبل سرکاری ٹریفک ایڈوائزری ضرور حاصل کریں، کیونکہ موجودہ صورتحال میں شاہراہ پر سفر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔شاہراہ کی مسلسل بندش کے باعث کشمیر وادی اور جموں خطے کے درمیان مسافر ٹریفک کے علاوہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے، جس سے مختلف شعبوں میں مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔دریں اثنا، شاہراہ کی بندش کے باعث پھنسے ہوئے مسافروں کی سہولت کے لیے شمالی ریلوے نے سرینگر اور شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا کے درمیان خصوصی ٹرین سروس چلائی ہے تاکہ لوگوں کو متبادل سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔حکام نے بتایا کہ شاہراہ کی بحالی کا کام جنگی بنیادوں پر جاری ہے، تاہم ٹریفک اسی وقت بحال کی جائے گی جب متعلقہ انجینئرنگ اور ٹریفک حکام شاہراہ کو ہر قسم کی گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے مکمل طور پر محفوظ قرار دیں گے۔یو این ایس کے مطابق انتظامیہ نے کہا کہ مسلسل بارشوں کے باعث ادھم پور اور رام بن اضلاع میں کئی حساس مقامات پر تازہ لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور پہاڑیوں سے پتھر کھسکنے کے واقعات پیش آئے ہیں، جس سے شاہراہ پر بحالی کی کارروائیاں بار بار متاثر ہو رہی ہیں۔ متعلقہ محکمے متاثرہ مقامات سے ملبہ ہٹانے اور سڑک کو قابلِ آمدورفت بنانے میں مصروف ہیں، تاہم خراب موسم کے باعث کام کی رفتار متاثر ہو رہی ہے۔حکام کے مطابق نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیاکو فوری طور پر متحرک کیا گیا ہے اور بھاری مشینری، انجینئرنگ عملہ اور بحالی ٹیمیں مختلف مقامات پر تعینات کی گئی ہیں تاکہ ملبہ ہٹانے کا عمل تیز کیا جا سکے۔ اس کے باوجود وقفے وقفے سے ہونے والی بارش اور مسلسل شوٹنگ اسٹونز بحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ موسمی صورتحال کے پیش نظر آئندہ چند گھنٹوں کے دوران مزید لینڈ سلائیڈنگ، شوٹنگ اسٹونز اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات پیش آسکتے ہیں، اس لیے مسافروں، ٹرانسپورٹروں اور سیاحوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ شاہراہ پر سفر سے گریز کریں اور صرف سرکاری ٹریفک ایڈوائزری جاری ہونے کے بعد ہی سفر کا منصوبہ بنائیں۔شاہراہ کی مسلسل بندش سے وادی کشمیر اور جموں کے درمیان اشیائے ضروریہ، پھلوں، سبزیوں اور دیگر تجارتی سامان کی نقل و حمل بھی متاثر ہوئی ہے، جبکہ سینکڑوں مسافر مختلف مقامات پر پھنس گئے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر شمالی ریلوے سرینگر اور شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا کے درمیان خصوصی ٹرین خدمات چلا رہی ہے تاکہ شاہراہ بند ہونے سے متاثرہ مسافروں کو متبادل سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ شاہراہ کو ہر قسم کی گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے محفوظ قرار دیے جانے کے بعد ہی ٹریفک بحال کی جائے گی اور اس حوالے سے عوام کو بروقت تازہ ٹریفک ایڈوائزری جاری کی جائے گی۔










