پارلیمنٹ ممبر مقامی علاقہ ترقیاتی اسکیم کے تحت 254 مکمل 525 پر کام جاری
سرینگر//جموں و کشمیر کے ارکانِ پارلیمان نے اٹھارویں لوک سبھا کی مدت کے دوران رکن پارلیمان مقامی علاقہ ترقیاتی اسکیم (ایم پی ایل اے ڈی ایس) کے تحت 47 کروڑ 64 لاکھ روپے مالیت کے 935 ترقیاتی منصوبوں کی سفارش کی ہے، جن میں سے 37 کروڑ 22 لاکھ روپے مالیت کے 779 منصوبوں کو منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ 254 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے سرکاری ریکارڈ میں سامنے آئے ہیں۔یو این ایس کے مطابق 22 جولائی کو لوک سبھا میں غیر ستارہ شدہ سوال نمبر 500 کے تحریری جواب میں مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے شماریات و پروگرام عمل درآمد، منصوبہ بندی اور وزیر مملکت برائے ثقافت راؤ اندرجیت سنگھ نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں 31 کروڑ 45 لاکھ روپے مالیت کے 525 منصوبوں پر اس وقت کام جاری ہے، جبکہ 20 جولائی 2026 تک اس اسکیم کے تحت 14 کروڑ 19 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق لداخ سے ارکانِ پارلیمان نے 4 کروڑ روپے مالیت کے 36 ترقیاتی منصوبوں کی سفارش کی، جن میں سے 1 کروڑ 23 لاکھ روپے مالیت کے 14 منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔ تاہم اب تک ایک بھی منصوبہ مکمل نہیں ہو سکا، جبکہ تمام منظور شدہ 14 منصوبے زیرِ تعمیر ہیں۔ لداخ میں اس اسکیم کے تحت اب تک 60 لاکھ روپے کے اخراجات کیے گئے ہیں۔ملک گیر سطح پر اٹھارویں لوک سبھا کے دوران ارکانِ پارلیمان کی جانب سے ہزاروں ترقیاتی منصوبوں کی سفارش کی گئی ہے۔ اس تناظر میں جموں و کشمیر میں منظور شدہ 779 منصوبوں میں سے 254 مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ لداخ میں موجودہ لوک سبھا کی مدت کے دوران اب تک ایک بھی منصوبہ مکمل نہیں ہوا۔یو این ایس کے مطابق وزیر نے ایوان کو مزید بتایا کہ یہ اعداد و شمار 20 جولائی 2026 تک ایم پی ایل اے ڈی ایس کے تحت سفارش کردہ، منظور شدہ، مکمل شدہ اور زیرِ تکمیل منصوبوں کی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزارتِ شماریات و پروگرام عمل درآمد گزشتہ پانچ مالی برسوں کے دوران متواتر اہم شماریاتی رپورٹس، جن میں پیریاڈک لیبر فورس سروے، ہاؤس ہولڈ کنزمپشن ایکسپینڈیچر سروے، کمپری ہینسو اینول ماڈیولر سروے اور اینول سروے آف انڈسٹریز شامل ہیں، شائع کرتی رہی ہے۔ وزارت کی “سپورٹ فار اسٹیٹسٹیکل اسٹرینتھننگ” ذیلی اسکیم کے ذریعے جموں و کشمیر اور لداخ سمیت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو شماریاتی صلاحیت مضبوط بنانے اور مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار، ضلعی گھریلو پیداوار اور پائیدار ترقیاتی اہداف سے متعلق اشاریے تیار کرنے میں بھی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔










