ہائی کورٹ میں زیر التوا مقدمات کئی بڑی ریاستوں سے کم

ای کورٹس، فاسٹ ٹریک عدالتوںسے مقدمات کے جلد تصفیے کی کوششیں جاری//وزیر قانون

سرینگر// جموں و کشمیر اور لداخ کی مشترکہ ہائی کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد ملک کی کئی بڑی ہائی کورٹس کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے قومی عدالتی ڈیٹا گرڈ کے اعداد و شمار کے مطابق 16 جولائی 2026 تک ہائی کورٹِ جموں و کشمیر و لداخ میں مجموعی طور پر 44,595 مقدمات زیر التوا تھے، جو ملک کی بیشتر ہائی کورٹس کے مقابلے میں کم ہیں۔یو این ایس کے مطابق مرکزی وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق صرف سکم، تریپورہ، میگھالیہ اور منی پور کی ہائی کورٹس میں جموں و کشمیر و لداخ سے کم زیر التوا مقدمات موجود ہیں، جبکہ ہماچل پردیش، پنجاب و ہریانہ، اتراکھنڈ، جھارکھنڈ، دہلی، تلنگانہ، کلکتہ، مدراس اور کئی دیگر ہائی کورٹس میں مقدمات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ میں زیر التوا 44,595 مقدمات میں سے صرف 4 مقدمات 30 برس سے زائد عرصے سے زیر سماعت ہیں، 395 مقدمات 20 برس سے زیادہ، 6,133 مقدمات 10 برس سے زائد، 13,514 مقدمات پانچ برس سے زیادہ جبکہ 33,950 مقدمات ایک برس سے زائد عرصے سے زیر التوا ہیں۔یو این ایس کے مطابق ضلعی اور ماتحت عدالتوں کے حوالے سے بھی جموں و کشمیر اور لداخ کی صورتحال کئی ریاستوں کے مقابلے میں بہتر بتائی گئی ہے۔ جموں و کشمیر کی ضلعی و ماتحت عدالتوں میں 3,64,800 جبکہ لداخ میں 1,754 مقدمات زیر التوا ہیں، اس طرح دونوں مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مجموعی طور پر 3,66,554 مقدمات زیر سماعت ہیں۔جموں و کشمیر کی ماتحت عدالتوں میں مقدمات کی مدت کے اعتبار سے 45 مقدمات 30 برس سے زائد، 654 مقدمات 20 برس سے زیادہ، 20,765 مقدمات 10 برس سے زائد، 84,126 مقدمات پانچ برس سے زیادہ جبکہ 2,58,880 مقدمات ایک برس سے زائد عرصے سے زیر التوا ہیں۔ لداخ کی ضلعی عدالتوں میں 10 برس سے زائد پرانے 11، پانچ برس سے زائد پرانے 112 اور ایک برس سے زیادہ عرصے سے زیر التوا 937 مقدمات ہیں، جبکہ 20 برس سے زائد پرانا کوئی مقدمہ موجود نہیں۔مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے قانون و انصاف ارجن رام میگھوال نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ مقدمات کے تصفیے کی ذمہ داری مکمل طور پر عدلیہ کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقدمات کے زیر التوا رہنے کی کئی وجوہات ہوتی ہیں، جن میں مقدمات کی پیچیدگی، شواہد کی دستیابی، وکلاء ، تفتیشی ایجنسیوں، گواہوں اور فریقین کا تعاون شامل ہے۔وزیر نے مزید بتایا کہ مرکز نے ای-کورٹس پروجیکٹ کے تیسرے مرحلے کے لیے 7,210 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے، ملک بھر میں 775 فاسٹ ٹریک اسپیشل عدالتیں قائم کی گئی ہیں، تمام ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں میں بقایا مقدمات سے نمٹنے کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، جبکہ متبادل تنازعاتی حل، لوک عدالتوں اور نئے فوجداری قوانین کے ذریعے مقدمات کے جلد تصفیے کو فروغ دیا جا رہا ہے۔