Sunil Sharma

2012 ایم بی بی ایس پیپر اسکینڈل کے مرکزی ملزم کو حکومت نے نوازا

2025 جے ای الیکٹریکل امتحان میں بھی پیپر لیک کے الزامات سامنے آئے// سنیل شرما

سرینگر//جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما سنیل کمار شرما نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی سابقہ حکومت نے 2012 کے مبینہ ایم بی بی ایس داخلہ امتحان پیپر فروخت اسکینڈل کے مرکزی ملزم کو سزا دینے کے بجائے اسے نوازا۔ انہوں نے کہا کہ عوام آج بھی اس حقیقت کو نہیں بھولے کہ اس وقت کی حکومت نے نہ صرف متعلقہ افسر کو ملازمت میں توسیع دی بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اسے مشیر (کنسلٹنٹ) کے طور پر تعینات کیا۔اپنے ایک بیان میں سنیل شرما نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو شفافیت، جوابدہی اور بدعنوانی کے خلاف اقدامات پر دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے اپنی حکومت کے دور میں پیش آنے والے واقعات کا جواب دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر شفافیت کی بات کی جائے تو سب سے پہلے 2012 کے مشترکہ داخلہ امتحان پیپر فروخت معاملے میں حکومت کے کردار کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے الزام لگایا کہ’بوپی‘ کے اْس وقت کے سربراہ مشتاق پیر، جنہیں اس اسکینڈل کا مرکزی ملزم قرار دیا گیا تھا، کو عمر عبداللہ کی حکومت نے نہ صرف ملازمت میں توسیع دی بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد کلاس چہارم کی فاسٹ ٹریک بھرتیوں کے لیے کنسلٹنٹ بھی مقرر کیا۔ شرما نے کہا کہ یہ تقرری اس بات کا ثبوت ہے کہ اْس وقت کی حکومت نے مبینہ طور پر مرکزی ملزم کی سرپرستی کی۔یو این ایس کے مطابق قائدِ حزبِ اختلاف نے مزید سوال اٹھایا کہ جب مبینہ پیپر لیک اور سوالیہ پرچوں کی فروخت کے بارے میں شکایات سامنے آ چکی تھیں تو اْس وقت کے وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ کی حیثیت سے عمر عبداللہ کی حکومت اور اس کے ماتحت تحقیقاتی ادارے خاموش کیوں رہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے مداخلت کی۔سنیل شرما کے مطابق عدالت کو مقرر کردہ امیکس کیوری نے آگاہ کیا تھا کہ 2012 کے مشترکہ داخلہ امتحان کے سوالیہ پرچے امتحان سے پہلے بھاری رقوم کے عوض فروخت کیے جانے کی اطلاعات موجود تھیں، تاہم مخصوص شکایات کے باوجود اس وقت کی ویجلنس آرگنائزیشن اور کرائم برانچ نے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی، جس کے بعد عدالت کو مداخلت کرنا پڑی۔انہوں نے کہا کہ تاریخ کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور منتخب یادداشت کے ذریعے حقائق تبدیل نہیں ہوتے۔ شرما نے دعویٰ کیا کہ عمر عبداللہ ان واقعات کو نظر انداز کر رہے ہیں جبکہ 2025 میں منعقد ہونے والیجے ای الیکٹریکل امتحان کے دوران بھی پیپر لیک کے الزامات سامنے آئے تھے، جس سے امتحانی نظام کی شفافیت پر ایک بار پھر سوالات کھڑے ہوئے۔سنیل شرما نے مطالبہ کیا کہ عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے امتحانی نظام میں مکمل شفافیت، غیرجانبدارانہ تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنائی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔