نیٹ تنازع پر طلبہ سے رابطے کی کوشش، پارلیمنٹ میں بحث کیلئے حکومت تیار
سرینگر// وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ملک کے نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور ان کا روشن مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور جو عناصر طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے کی کوشش کریں گے انہیں کسی بھی صورت بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے پیپر لیک کے مقدمات کی تیز رفتار سماعت اور قصورواروں کو سخت سزا دلانے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کی ہدایت بھی دی۔یو این ایس کے مطابق وزیر اعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے خلاف جاری احتجاج نے شدت اختیار کر رکھی ہے۔ تین روز قبل کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں ہزاروں طلبہ نے سنسد چلو مارچ نکالا تھا، جس میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور امتحانی بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔احتجاج کے دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد طلبہ زخمی ہوئے، جبکہ پولیس کے مطابق سو سے زائد اہلکار بھی جھڑپوں میں زخمی ہوئے۔وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اپنے پیغام میں کہا کہ نوجوانوں کی فلاح اور ان کا مستقبل سب سے زیادہ اہم ہے اور یہی ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ جو لوگ نوجوانوں کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے، انہیں ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے پیپر لیک کے معاملات میں فوری اور سخت کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مجرموں کو جلد از جلد قانون کے مطابق سزا دی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام اور اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ امتحانی بے ضابطگیوں کی روک تھام اور طلبہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات فوری طور پر کیے جائیں۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے طلبہ کے اعتماد کی بحالی اور امتحانی نظام کو شفاف بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے منگل کو این ڈی اے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھی اس معاملے پر تفصیل سے گفتگو کی تھی۔ اگرچہ اس اجلاس کی براہ راست نشریات نہیں ہوئیں، تاہم پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو اور دیگر ارکان پارلیمنٹ نے بتایا کہ وزیر اعظم نے پیپر لیک کو گھور پاپ (سنگین گناہ) قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جرم میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ کوئی بھی نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے کی جرات نہ کرے۔یو این ایس کے مطابق وزیر اعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پیپر لیک کا مسئلہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کا معاملہ ہے، اس لیے تمام ریاستی حکومتوں اور مرکزی حکومت کو مل کر ایسا مضبوط نظام تشکیل دینا چاہیے جس سے مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی مکمل روک تھام ممکن ہو سکے۔انہوں نے این ڈی اے کے ارکان پارلیمنٹ کو ہدایت دی کہ وہ عوام، خصوصاً نوجوانوں سے مسلسل رابطے میں رہیں، ان کے اعتماد کو مضبوط کریں اور انہیں صحیح معلومات فراہم کریں تاکہ انہیں گمراہ ہونے سے بچایا جا سکے۔کرن رجیجو کے مطابق وزیر اعظم نے اجلاس میں بتایا کہ جیسے ہی پیپر لیک کی اطلاعات سامنے آئیں، حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 13 افراد کو گرفتار کیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو نقصان سے بچانے کے لیے نیٹ کا دوبارہ امتحان بروقت منعقد کیا گیا اور نتائج بھی بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے جاری کیے گئے۔دریں اثنا، نیٹ پیپر لیک معاملے پر جون سے احتجاج کی قیادت کرنے والیکاکروچ جنتا پارٹی نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو فوری برطرف کرنے اور پیپر لیک کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ دہرایا ہے۔یو این ایس کے مطابق سماجی کارکن سونم وانگچک بھی 28 جون سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں۔ بدھ کو مرکزی وزراء جے پی نڈ اور ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے گروگرام کے میدانتا اسپتال میں ان سے ملاقات کی، جبکہ جے پی نڈا نے نئی دہلی کے رام منوہر لوہیا اسپتال میں زیر علاج زخمی طلبہ سے بھی ملاقات کی اور سی جے پی کے نمائندوں سے مذاکرات کیے۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں نیٹ پیپر لیک معاملے پر تفصیلی بحث کے لیے تیار ہے، تاہم مرکزی حکومت کے ایک سینئر عہدیدار نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے میں براہِ راست ملوث نہیں ہیں، اس لیے ان کے استعفے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔










