اخلاقی اعتبار سے انسان کی دو حالتیں ہوتی ہیں: ایک معتدل حالت اور دوسری غیر معتدل حالت۔ معتدل حالت میں عموماً ہر انسان خوش اخلاق اور نرم مزاج دکھائی دیتا ہے، لیکن صرف یہی حالت کسی کے صاحبِ تقویٰ ہونے کا معیار نہیں بن سکتی۔ ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ جب کسی شخص کے ساتھ ہمارے دوستانہ تعلقات ہوں۔ ایسے حالات میں خوش اخلاق رہنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، اس لیے یہ تقویٰ کا حقیقی امتحان نہیں ہوتا۔ اصل امتحان اس وقت آتا ہے جب کسی سے اختلاف پیدا ہو جائے، وہ ایسا رویہ اختیار کرے جو دل آزاری یا شکایت کا باعث بنے، یا اس کی کسی بات پر انسان کو غصہ آ جائے۔ ایسے مواقع پر اگر انسان اپنے جذبات پر قابو رکھے، انصاف اور اعتدال کا دامن نہ چھوڑے، اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے خوف کو پیشِ نظر رکھے، تو یہی اس کے تقویٰ کی اصل علامت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اختلاف اور دشمنی کے باوجود انصاف، صبر اور حسنِ اخلاق پر قائم رہتا ہے، وہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک متقی انسان کہلانے کا حق دار ہے۔










