وزارت الیکٹرانکس و اِ نفارمیشن ٹیکنالوجی کا اے آئی سینٹر آف ایکسی لنس اگست2026 تک فعال ہوجائے گا
سری نگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے جموں و کشمیر میں آرٹیفیشل اِنٹلی جنس( اے آئی) کوگورننس میں اَپنانے کی پیش رفت اور وزارتِ الیکٹرانکس و اِنفارمیشن ٹیکنالوجی (ایم اِی آئی ٹی وائی)) کے سینٹر آف ایکسی لنس (سی او اِی) کے قیام کا جائزہ لینے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں متعلقہ اِنتظامی سیکرٹریوں کے علاوہ وزارتِ الیکٹرانکس و اِنفارمیشن ٹیکنالوجی، آئی آئی ٹی جموں،بی آئی ایس اے جی کے نمائندوں اور یونین ٹیریٹری کے دیگر متعلقہ اَفسران نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے پیش کا رفت کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ آرٹیفیشل اِنٹلی جنس میں کارکردگی ،شفافیت ، ردِّعمل اور عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنا کر طرزِ حکمرانی کو بنیادی طور پر تبدیلی کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کو اُبھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کو محض ڈیجیٹل آلات کے طور پر نہیں بلکہ بہتر حکمرانی، تیز رفتار فیصلہ سازی اورشہریوں کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لئے حکمت عملی کے ذرائع کے طور پر اِستعمال کرنا چاہیے۔اُنہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی حل موجودہ ڈیجیٹل نظام کے متوازی نظام قائم کرنے کے بجائے اس کی تکمیل کریں تاکہ سرکاری وسائل کا بہترین اِستعمال اور موجودہ پلیٹ فارموںکے ساتھ ہموار انضمام یقینی بنایا جا سکے۔چیف سیکرٹری نے اِنتظامی محکموں سے کہاکہ وہ شناخت شدہ اے آئی منصوبوں پر تیز رفتار عمل درآمد کے لئے محکمہ اِنفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ فعال تعاون کریں۔ اُنہوں نے ہدایت دی کہ جہاں ضرورت ہو وہاں مخصوص نوڈل اَفسران نامزد کئے جائیں اور اے آئی حلوں کی تیاری،جانچ اور توثیق کے لئے ضروری معیاری ڈیٹا سیٹ برقت فراہم کرنا یقینی بنائیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ڈیٹا کا معیار،اِنٹرآپریبلٹی اورمتعلقہ محکموں کی ذمہ داری کا احساس، حکومتی سطح پر اے آئی ایپلی کیشنز کی کامیاب عمل آوری کے لئے نہایت اہم ہوگا۔ چیف سیکرٹری نے ایک منظم نفاذی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ہدایت دی کہ تمام محکموں کے نوڈل اَفسران، ٹیکنالوجی شراکت داروں، شعبہ جاتی ماہرین اور عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں کے ساتھ سیکٹر کے لئے مخصوص ورکشاپوں کا اِنعقاد کیا جائے تاکہ پائلٹ پروجیکٹوں کے آغاز سے پہلے ڈیٹا کی دستیابی ، بنیادی ڈھانچے کی تیاری، آپریشنل ورک فلو اورفیلڈ سطح کی ضروریات کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔اُنہوں نے کہا کہ اِس طرح کی مشترکہ مشقوں سے قابلِ عمل نفاذی روڈ میپ تیار کرنے میں مدد ملے گی جبکہ محکموں کو اِبتدائی مرحلے پر ہی آپریشنل چیلنجوں کی نشاندہی کرنے کے قابل بنائیں گی۔چیف سیکرٹری نے اِس بات پر بھی زور دیا کہ ہر اے آئی منصوبے کی پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ واضح اہداف اور نتائج کے اشاریوں کی بنیاد پر لیا جائے تاکہ عمل درآمد میں حائل رُکاوٹوں کو مقررہ مدت میں دور کیا جا سکے۔ اُنہوں نے تمام متعلقہ محکموں کے درمیان قریبی رابطہ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اے آئی اقدامات کے نتائج حکمرانی میں قابلِ پیمائش بہتری کی صورت میں سامنے آنے چاہئیں۔اِس سے قبل کمشنر سیکرٹری محکمہ اِنفارمیشن ٹیکنالوجی سوربھ بھگت نے مرکز کے تنظیمی ڈھانچے، نفاذ کی حکمت عملی، موجودہ صورتحال اور مستقبل کے روڈ میپ پر تفصیلی پرزنٹیشن پیش کی۔ پرزنٹیشن میں یونین ٹیریٹری لیول سٹیئرنگ کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد، شناخت شدہ اے آئی پروجیکٹوںکی پیش رفت اور مختلف محکموں میں پائلٹ منصوبوں کے مجوزہ روڈ میپ کو بھی اُجاگر کیا گیا۔دورانِ میٹنگ چیف سیکرٹری کو آئی آئی ٹی جموں میں آرٹیفیشل اِنٹلی جنس میں ایم اِی آئی ٹی وائی سینٹر آف ایکسی کے قیام میں حاصل ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا گیاجسے طرزِ حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی میں اے آئی کو فروغ دینے کے لئے ایک قومی مشن کے طور پر تصور کیا گیا ہے۔میٹنگ میں مزید کہا گیا کہ مرکز کو اگست 2026 ء تک فعال بنانے کی تیاریاں جاری ہیں۔ اِس مقصد کے لئے تقریباً,000 10 مربع فٹ جگہ مختص کی جا چکی ہے اور بنیادی ڈھانچہ بھی اِسی مدت تک مکمل کیا جائے گا۔میٹنگ کو جانکاری دِی گئی کہ وزارتِ الیکٹرانکس و اِنفارمیشن ٹیکنالوجی کے مشاورت سے عمل درآمدی روڈ میپ اور کلیدی کارکردگی اشاریے (کے پی آئی) کو حتمی شکل دی جا چکی ہے جبکہ اے آئی ڈیجیٹل پبلک اِنفراسٹرکچر(اے آئی ۔ ڈِی پی آئی) کی میزبانی کے لئے اعلیٰ کارکردگی والے کمپیوٹنگ اِنفراسٹرکچر کی خریداری شروع کر دی گئی ہے۔میٹنگ میں یونین ٹیریٹری لیول سٹیئرنگ کمیٹی (یوٹی ایل ایس سی) کے فیصلوں کے مطابق پورے جموں و کشمیر میں جاری آرٹیفیشل اِنٹلی جنس اَپنانے کے پروگرام کی تفصیلی پیش رفت رِپورٹ بھی پیش کی گئی۔دورانِ میٹنگ آٹھ ترجیحی شعبوںجن میں تعلیم، ہنر مندی کی ترقی، زراعت، بجلی، عوامی حکمرانی، صحت و طبی تعلیم، ٹرانسپورٹ و بنیادی ڈھانچہ نیز قبائلی فلاح و بہبود اور سکیورٹی جیسے اُبھرتے ہوئے شعبوں میں شناخت شدہ بیس اے آئی اِستعمال کے معاملات کا جامع جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں بنیادی خواندگی وشماریات، کثیر لسانی تعلیمی پلیٹ فارموں، درست زرعی نظام، مقامی سطح پر موسم کی پیش گوئی، ڈیجیٹل گورننس ،یوٹیلیٹی ڈیمانڈ فورکاسٹنگ، اِنفراسٹرکچر ہیلتھ مانیٹرنگ، اربن فلڈ ماڈلنگ، اورل پبلک کینسر سپورٹ سکریننگ اور دیگر کئی ایپلی کیشن سپورٹ ٹیکنالوجی سسٹم، سی سی کے ذریعے حاصل کردہ پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ ہر منصوبے کے حوالے سے محکمہ جاتی مشاورت، تکنیکی جانچ، پائلٹ منصوبہ بندی اور شراکت داروں کے ساتھ رابطوں کی صورتحال پر بھی غورو غوض کیا گیا۔میٹنگ کا مقصد تمام شریک محکموں اور شراکت داروں اے آئی روڈ میپ پر تیز رفتار عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے تاکہ آرٹیفیشل اِنٹلی جنس کو جموں و کشمیر میں شفاف، مؤثر اور عوام دوست حکمرانی کے ایک اہم محرک کے طور پر بروئے کار لایا جا سکے۔










