پیپر لیک قومی مفاد کا معاملہ، مستقبل میں ایسے واقعات روکنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی ضروری//مودی
سرینگر// وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ نیٹ امتحان کے پرچہ لیک معاملے میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی گئی تاکہ کوئی بھی نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے کی جرات نہ کرے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل میں پیپر لیک جیسے واقعات کی روک تھام کیلئے تمام ریاستی حکومتوں اور مرکزی حکومت کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا کیونکہ یہ سیاست نہیں بلکہ قومی مفاد کا معاملہ ہے۔یو این ایس کے مطابق منگل کو یہاں این ڈی اے ارکان پارلیمنٹ کے اجلاس ’’منگل ملن‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جیسے ہی نیٹ امتحان کے پرچہ لیک کی اطلاعات سامنے آئیں، حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کیے اور اب تک 13 ملزمان کو گرفتار کرکے جیل بھیجا جا چکا ہے۔اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے بتایا کہ وزیر اعظم نے ارکان پارلیمنٹ کو آگاہ کیا کہ حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ طلبہ کے مستقبل پر کوئی منفی اثر نہ پڑے، اسی لیے نیٹ کا دوبارہ امتحان ترجیحی بنیادوں پر منعقد کیا گیا اور اس کے نتائج بھی بغیر تاخیر جاری کیے گئے۔وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے مستقبل میں پرچہ لیک کے واقعات کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات کیے ہیں اور اس ضمن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپر لیک جیسے سنگین جرم میں ملوث افراد کو ملک کے بہترین قانونی ماہرین کی مدد سے سخت ترین سزا دلائی جانی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی بھی نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے کی جرات نہ کرے۔یو این ایس کے مطابق کرن رجیجو کے مطابق وزیر اعظم نے واضح کیا کہ پیپر لیک کا مسئلہ کسی ایک ریاست یا سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک اور نوجوان نسل کے مستقبل کا معاملہ ہے، اس لیے تمام ریاستی حکومتوں کو مرکز کے ساتھ مل کر مؤثر نظام وضع کرنا ہوگا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب ہزاروں طلبہ نے کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں نئی دہلی میں ’’سنسد چلو‘‘ مارچ نکال کر نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کیا اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔










