وادی میں گرمی کا قہر تیسرے روز بھی جاری، معمولاتِ زندگی متاثر

وادی میں گرمی کا قہر تیسرے روز بھی جاری، معمولاتِ زندگی متاثر

19 سے 23 جولائی تک شدید بارشوں کا امکان،محکمہ موسمیات کی ایڈوائزری جاری

سرینگر// شدید گرمی کی لہر مسلسل تیسرے روز بھی وادی کشمیر کو اپنی لپیٹ میں لیے رہی، جس کے باعث عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔ دن بھر چلچلاتی دھوپ اور درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے نے لوگوں کو شدید مشکلات سے دوچار رکھا، جبکہ بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی اور پانی کی قلت نے شہریوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا۔ بزرگ، بچے اور روزانہ مزدوری کرنے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جبکہ بازاروں اور سڑکوں پر دوپہر کے اوقات میں معمول سے کم چہل پہل دیکھنے میں آئی۔ طبی ماہرین نے شہریوں کو بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلنے، زیادہ سے زیادہ پانی پینے اور دھوپ سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے جموں و کشمیر میں 19 سے 23 جولائی تک طویل بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے ایڈوائزری جاری کی ہے۔ محکمہ نے خبردار کیا ہے کہ اس دوران کئی علاقوں میں موسلادھار بارش، گرج چمک، فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ، پتھر گرنے اور ٹرانسپورٹ نظام متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔یو این ایس کے مطابق سرینگر میں قائم موسمیاتی مرکز کی جانب سے جاری ایڈوائزری کے مطابق بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والی مرطوب ہواؤں کے ساتھ مانسون ٹرف کے مغربی سرے کی جموں کی جانب منتقلی کے باعث پورے جموں و کشمیر میں موسم شدت اختیار کر سکتا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق 19 سے 23 جولائی کے دوران جموں اور کشمیر دونوں ڈویڑنوں میں وسیع پیمانے پر درمیانی درجے کی بارش اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، جبکہ 21 سے 23 جولائی کے درمیان کشمیر ڈویڑن کے بعض مقامات پر شدید بارش کا امکان ہے۔ادھر جموں ڈویڑن میں 20 سے 23 جولائی تک متعدد علاقوں میں شدید سے انتہائی شدید بارش اور گرج چمک کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ ریاسی اور ادھم پور اضلاع میں کہیں کہیں غیر معمولی اور انتہائی شدید بارش ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔محکمہ نے خبردار کیا ہے کہ خراب موسمی صورتحال کے باعث لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے، پتھروں کے کھسکنے اور اچانک سیلاب آنے کا خطرہ ہے، خاص طور پر جموں ڈویڑن کے پیر پنجال خطے اور کشمیر کے بالائی علاقوں اننت ناگ، پہلگام، کولگام، شوپیان، پیر کی گلی، گلمرگ، سونہ مرگ-زوجیلا شاہراہ، بانڈی پورہ-رزدان پاس اور کپواڑہ-سادھنا پاس میں۔ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث جموں-سرینگر قومی شاہراہ سمیت دیگر اہم سڑکوں پر ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے، معمولی سیلاب اور دریاؤں و ندی نالوں میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافے کا بھی امکان ہے۔ بعض مقامات پر بادل پھٹنے جیسے واقعات بھی پیش آ سکتے ہیں۔محکمہ موسمیات نے سیاحوں اور مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ موسم کی تازہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے سفر کی منصوبہ بندی کریں، جبکہ بالائی علاقوں کے رہائشیوں سے لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والے مقامات سے دور رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔کسانوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ بارشوں کا سلسلہ ختم ہونے تک کھاد ڈالنے اور زرعی ادویات کے اسپرے سے گریز کریں۔محکمہ موسمیات نے مزید کہا کہ بارشوں کے اس سلسلے کے دوران دن کے درجہ حرارت میں نمایاں کمی آنے کا بھی امکان ہے۔