جموں و کشمیر میں ڈیجیٹل گورننس مضبوط بنانے کیلئے ڈیٹا مینجمنٹ اسٹریٹجی کا جائزہ

چیف سیکریٹری اتل ڈلوکاشہریوں کو بار بار دستاویزات جمع کرانے سے نجات دلانے پر زور

سرینگر// چیف سیکریٹری جموں و کشمیر اٹل ڈولو نے آج ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مجوزہ ڈیٹا مینجمنٹ اسٹریٹجی اور ایکشن پلان کا جائزہ لیا، جس کا مقصد سرکاری محکموں میں محفوظ، مربوط اور شہری دوست ڈیجیٹل ڈیٹا نظام قائم کرنا ہے تاکہ عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر اور آسان بنایا جا سکے۔یو این ایس کے مطابق اجلاس میں مختلف انتظامی سیکریٹریز، کمشنر سیکریٹری منصوبہ بندی، ترقی و نگرانی محکمہ، منیجنگ ڈائریکر جموں و کشمیر بینک، ڈائریکٹر جنرل اکنامکس اینڈ اسٹیٹسٹکس، اسٹیٹ انفارمیٹکس آفیسر، ڈائریکٹر پلاننگ اور دیگر متعلقہ محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران چیف سیکریٹری نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں مؤثر طرزِ حکمرانی کے لیے مستند، معیاری اور محفوظ ڈیٹا بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سرکاری محکمے بڑی مقدار میں اہم معلومات تیار کرتے ہیں، تاہم ان سے حقیقی فائدہ اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب انہیں ایک مشترکہ ڈیٹا گورننس فریم ورک کے تحت منظم کیا جائے اور مجاز محکموں کے درمیان محفوظ انداز میں شیئر کیا جائے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ شہریوں کو مختلف سرکاری اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک ہی معلومات یا دستاویزات بار بار جمع نہ کرانی پڑیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایک ایسا مربوط ڈیجیٹل نظام قائم کرنا چاہتی ہے جہاں ایک مرتبہ حکومت کے پاس موجود مستند معلومات کو رازداری اور ڈیٹا سکیورٹی کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے مجاز محکمے استعمال کر سکیں۔اٹل ڈولو نے تمام انتظامی محکموں کو ہدایت دی کہ وہ اس حکمت عملی پر عمل درآمد میں مکمل تعاون کریں اور اپنے متعلقہ ڈیٹا کو مجوزہ ڈیٹا گورننس فریم ورک کے مطابق معیاری بنائیں۔ انہوں نے یکساں میٹا ڈیٹا معیارات، مضبوط کوالٹی اشورنس نظام اور محفوظ انٹرآپریبلٹی پروٹوکول اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اجلاس میں محکمہ منصوبہ بندی کی جانب سے مجوزہ حکمت عملی کے پانچ بنیادی ستونوں پر تفصیلی پریزنٹیشن دی گئی، جن میں ڈیٹا گورننس و معیارات، بنیادی رجسٹریاں اور منفرد شناختی نظام، انٹرآپریبلٹی و ہم آہنگی، ڈیٹا سکیورٹی و رازداری، اور ادارہ جاتی صلاحیت و رابطہ کاری شامل ہیں۔یو این ایس کے مطابق حکمت عملی کے تحت “سنگل سورس آف ٹروتھ” کا تصور متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے ذریعے اصل سرکاری ڈیٹا محفوظ رکھتے ہوئے مجاز اداروں کے درمیان اے پی آئی کی بنیاد پر معلومات کا محفوظ تبادلہ ممکن بنایا جائے گا، تاکہ شواہد پر مبنی منصوبہ بندی، مؤثر نگرانی اور بہتر طرزِ حکمرانی کو فروغ دیا جا سکے۔چیف سیکریٹری نے اجلاس میں سول رجسٹریشن سسٹم کو جموں و کشمیر بینک کے ساتھ مربوط کرنے کی تجویز کا بھی جائزہ لیا۔ اس نظام کے تحت ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہوتے ہی پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا اور پردھان منتری سرکشا بیمہ یوجنا کے تحت بیمہ کلیمز کی کارروائی خودکار طریقے سے شروع ہو جائے گی، جس سے متاثرہ خاندانوں کو الگ درخواست دینے کی ضرورت نہیں رہے گی اور مالی امداد بروقت فراہم کی جا سکے گی۔اجلاس میں سول رجسٹریشن سسٹم کو محکمہ صحت، محکمہ سماجی بہبود اور محکمہ اسکولی تعلیم سے جوڑنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔یو این ایس کے مطابق اس نظام کے تحت ہر نومولود بچے کی پیدائش کے اندراج کے ساتھ ہی غذائی معاونت، حفاظتی ٹیکہ کاری اور دیگر فلاحی اسکیموں کے لیے خودکار اندراج ممکن ہو سکے گا، جبکہ بعد ازاں آئی ڈی،آپارکے ذریعے اسکول داخلوں، وظائف اور دیگر تعلیمی سہولیات سے بھی ربط قائم کیا جائے گا۔اس کے علاوہ اسکولوں، اسپتالوں، آنگن واڑی مراکز اور دیگر سرکاری اداروں کا مشترکہ جغرافیائی شناختی نظام پر مبنی مربوط ڈیٹا بیس تیار کرنے کی تجویز کا بھی جائزہ لیا گیا تاکہ منصوبہ بندی، بنیادی ڈھانچے کی نقشہ سازی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو بہتر بنایا جا سکے۔چیف سیکریٹری نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ وہ مرحلہ وار عمل درآمد کے لیے واضح اہداف پر مشتمل وقت بند روڈ میپ تیار کریں اور ہر مرحلے پر ڈیٹا کی رازداری، سائبر سکیورٹی اور گورننس کے معیارات کی سختی سے پابندی کو یقینی بنائیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اقدام جموں و کشمیر میں جدید، مربوط اور شہری دوست طرزِ حکمرانی کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا اور مختلف محکموں کے درمیان مستند معلومات کے محفوظ تبادلے کے ذریعے عوامی خدمات اور فلاحی اسکیموں کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔