5,470 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے
سرینگر// وزیر اعظم نریندر مودی 17 جولائی کو پنجاب اور چندی گڑھ کے دورے کے دوران مجموعی طور پر ہزاروں کروڑ روپے مالیت کے بنیادی ڈھانچے، صحت، ریلوے اور شاہراہوں سے متعلق اہم ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔ حکام کے مطابق پنجاب میں تقریباً 5,470 کروڑ روپے کے منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا جائے گا، جبکہ چندی گڑھ میں 4,700 کروڑ روپے سے زائد لاگت کے منصوبوں کا آغاز کیا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں سے نہ صرف سفری سہولیات میں بہتری آئے گی بلکہ خطے کی معاشی سرگرمیوں، تجارت، سیاحت اور روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہوگا۔حکام کے مطابق وزیر اعظم جالندھر کینٹ ریلوے اسٹیشن سے امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت ملک بھر میں جدید خطوط پر ترقی دیے گئے 75 ریلوے اسٹیشنوں کا باضابطہ افتتاح کریں گے۔ تقریباً 1,570 کروڑ روپے کی لاگت سے ان اسٹیشنوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے، جہاں مسافروں کے لیے بہتر انتظار گاہیں، جدید ٹکٹنگ نظام، لفٹیں، ایسکلیٹرز، صاف ستھرے پلیٹ فارم، ڈیجیٹل معلوماتی نظام اور معذور افراد کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ ان اسٹیشنوں کی تعمیر میں مقامی ثقافت، تاریخی ورثے اور علاقائی طرز تعمیر کو بھی نمایاں رکھا گیا ہے۔ پنجاب میں جالندھر کینٹ، ایس اے ایس نگر (موہالی)، سری مکتسر صاحب اور سری آنند پور صاحب ان جدید اسٹیشنوں میں شامل ہیں۔یو این ایس کے مطابق وزیراعظم تقریباً 830 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی دولت پور چوک-کرتولی نئی ریلوے لائن کا بھی افتتاح کریں گے، جو ننگل ڈیم-تلوارہ-مکیریاں ریلوے منصوبے کا حصہ ہے۔ اس نئی لائن سے پنجاب اور ہماچل پردیش کے درمیان ریل رابطہ مزید مستحکم ہوگا، جبکہ ہوشیارپور اور اونا اضلاع کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ اس منصوبے سے سری آنند پور صاحب اور ماں چنت پورنی مندر جیسے اہم مذہبی مقامات تک رسائی آسان ہوگی، جبکہ دور دراز علاقوں کے مسافروں کو تیز، محفوظ اور قابل اعتماد سفری سہولت دستیاب ہوگی۔اس موقع پر وزیر اعظم کرتولی-امبالہ ٹرین سروس اور امرتسر-وارانسی براہ راست ٹرین سروس کو بھی ہری جھنڈی دکھائیں گے۔ نئی ٹرین خدمات سے پنجاب، ہریانہ، ہماچل پردیش اور اتر پردیش کے درمیان رابطہ بہتر ہوگا، جبکہ امرتسر اور وارانسی جیسے دو اہم مذہبی و ثقافتی مراکز کے درمیان براہ راست ریل سروس شروع ہونے سے لاکھوں زائرین اور مسافروں کو سہولت ملے گی۔وزیراعظم تقریباً 3,070 کروڑ روپے مالیت کے قومی شاہراہ منصوبوں کا بھی افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔ ان میں دہلی-امرتسر-کٹرا گرین فیلڈ ایکسپریس وے کے 30.9 کلومیٹر طویل چار رویہ پیکیج-6 کا افتتاح شامل ہے، جس سے بھاری گاڑیوں کی آمدورفت مزید آسان ہوگی، سفر کا وقت کم ہوگا، ایندھن کی بچت ہوگی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں کمی آئے گی۔ اس کے علاوہ 25.2 کلومیٹر طویل سدرن لدھیانہ بائی پاس کا سنگ بنیاد بھی رکھا جائے گا، جو لدھیانہ شہر میں ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کے ساتھ ساتھ لدھیانہ، بھٹنڈہ اور دیگر صنعتی و تجارتی مراکز کے درمیان رابطہ مزید بہتر بنائے گا۔یو این ایس کے مطابقپنجاب کے دورے سے قبل وزیر اعظم چندی گڑھ میں 4,700 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔ وہ پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ میں 300 بستروں پر مشتمل جدیدایڈوانسڈ مدر اینڈ چائلڈ سینٹر اور ایڈوانسڈ نیورو سائنسز سینٹر کا افتتاح کریں گے، جن سے پنجاب، ہریانہ، ہماچل پردیش، جموں و کشمیر، چندی گڑھ اور دیگر شمالی ریاستوں کے لاکھوں مریض مستفید ہوں گے۔ اس کے علاوہ پردھان منتری آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن کے تحت 150 بستروں پر مشتمل جدید کریٹیکل کیئر بلاک کا سنگ بنیاد بھی رکھا جائے گا، جس سے ہنگامی اور انتہائی نگہداشت کی طبی سہولیات میں نمایاں بہتری آئے گی۔وزیراعظم کے دورے کے پیش نظر جالندھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل آف پولیس گورو یادو نے جالندھر کینٹ ریلوے اسٹیشن کا دورہ کر کے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا، جبکہ ضلعی انتظامیہ نے دورے کے دوران شہر کو ‘نو فلائنگ زون’ قرار دیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔










