آمد و رفت کے مراکز کے اطراف تعمیراتی ضابطوں میں نرمی

نئی پالیسی نافذ،ریل اور بس اڈوں کے نزدیک بلند عمارتوں اور سستی رہائش کی راہ ہموار

سرینگر// حکومت نے شہری ترقی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے جموں و کشمیر ٹرانزٹ اورینٹڈ ڈیولپمنٹ پالیسی2026 کو باضابطہ طور پر نافذ کر دیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت ریلویز اسٹیشنوں، بس اڈوں، ای بس اسٹاپس اور قومی شاہراہوں کے ٹول پلازوں کے اطراف تعمیراتی ضوابط میں نرمی دی جائے گی تاکہ شہری علاقوں کو زیادہ منظم، گنجان، ماحول دوست اور عوامی ٹرانسپورٹ پر مبنی بنایا جا سکے۔یو این ایس کے مطابق ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ محکمہ کی جانب سے جاری پالیسی کے مطابق اس کا مقصد زمین کے استعمال کو عوامی نقل و حمل کے نظام سے جوڑنا، بے ہنگم شہری پھیلاؤ کو روکنا، سستی رہائش کو فروغ دینا، پیدل چلنے اور سائیکل کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا اور ماحول دوست شہری مراکز قائم کرنا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے ذریعے جموں و کشمیر کے شہروں کو عوام دوست، اقتصادی طور پر متحرک اور بہتر معیارِ زندگی فراہم کرنے والے شہری مراکز میں تبدیل کیا جائے گا۔پالیسی کا اطلاق جموں و کشمیر کے تمام اربن اینڈ ریجنل ڈیولپمنٹ اتھارٹیز اور ایک لاکھ یا اس سے زائد آبادی والے تمام شہری مقامی اداروں پر ہوگا۔ اس کے تحت ہر ٹرانزٹ مرکز کے گرد 800 میٹر یا تقریباً 10 منٹ کی پیدل مسافت پر مشتمل علاقہ ٹرانزٹ اورینٹڈ ڈیولپمنٹ پلاننگ ایریا قرار دیا جائے گا، جہاں خصوصی ترقیاتی ضوابط نافذ ہوں گے۔ تاہم ماحولیاتی تحفظ والے علاقے، گرین زون، بفر زون، ورثہ مقامات اور غیر مجاز کالونیوں کو اس پالیسی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔نئی پالیسی کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ ٹرانزٹ راہداریوں کے اطراف تعمیرات کے لیے فلور ایریا ریشو کی حد بڑھا کر 500 مقرر کی گئی ہے تاکہ زیادہ گنجان تعمیرات ممکن ہو سکیں۔ تاہم عمارتوں کی بلندی کا تعین بدستور ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے ضوابط کے مطابق ہوگا۔پالیسی کے تحت رہائشی، تجارتی، تعلیمی، دفتری اور تفریحی سرگرمیوں کو ایک ہی علاقے میں فروغ دینے کی اجازت ہوگی تاکہ شہریوں کو روزمرہ ضروریات کے لیے طویل سفر نہ کرنا پڑے اور عوامی ٹرانسپورٹ کا استعمال بڑھے۔ اسی مقصد کے تحت 15 میٹر یا اس سے زیادہ چوڑی سڑکوں کے کنارے نئی تعمیرات میں سیٹ بیک اور باونڈری وال ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ عمارتوں کے سامنے کم از کم ساڑھے تین میٹر چوڑے سایہ دار راہداری (آرکیڈ) تعمیر کرنا لازمی ہوگا تاکہ پیدل چلنے والوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔یو این ایس کے مطابق پالیسی میں پہلی مرتبہ سڑکوں کو زیادہ متحرک اور عوام دوست بنانے کے لیے ایکٹو فرنٹیج کا تصور متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت دکانیں، شیشے کی کھڑکیاں، پیدل داخلے، برآمدے اور عوامی مقامات تعمیر کرنا ضروری ہوگا تاکہ شہری علاقوں میں تجارتی اور سماجی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔حکومت نے سستی رہائش کو بھی پالیسی کا لازمی حصہ بنایا ہے۔ اس کے مطابق رہائشی منصوبوں میں اضافی 15 فیصد ایف اے آر اقتصادی طور پر کمزور طبقے کے لیے مختص کیا جائے گا، جبکہ چھوٹے رقبے کے مکانات کی تعمیر بھی لازمی ہوگی۔ پالیسی میں ایسے منصوبوں کے لیے اضافی ترقیاتی فیس میں رعایت دینے کی بھی تجویز رکھی گئی ہے تاکہ کم آمدنی والے خاندانوں، طلبہ اور نوجوان پیشہ ور افراد کو مناسب رہائش میسر آ سکے۔ماحولیاتی تحفظ کے لیے بھی متعدد سخت ضوابط شامل کیے گئے ہیں۔ 0.2 ہیکٹر یا اس سے بڑے منصوبوں میں استعمال شدہ پانی کا 100 فیصد ٹریٹمنٹ اور دوبارہ استعمال لازمی ہوگا، جبکہ سبز فضلہ مکمل طور پر ری سائیکل کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ منصوبوں کی کم از کم 10 فیصد توانائی شمسی یا دیگر قابل تجدید ذرائع سے حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ بارش کے پانی کو مقامی سطح پر جذب کرنے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے خصوصی منصوبہ بندی بھی لازم ہوگی۔پالیسی کے مطابق ہر مربوط منصوبے کے 20 فیصد رقبے کو عوامی سبزہ زار کے طور پر مختص کرنا ہوگا، جو عوام کے لیے ہر وقت کھلا رہے گا اور اس کے نیچے پارکنگ یا تہہ خانے تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔نجی گاڑیوں پر انحصار کم کرنے کے لیے نئی پالیسی میں روایتی پارکنگ ضوابط تبدیل کرتے ہوئے محدود پارکنگ کی شرط رکھی گئی ہے۔ منصوبوں میں سائیکلوں اور وہیل چیئرز کے لیے مخصوص پارکنگ، جبکہ کم از کم 20 فیصد پارکنگ کو برقی گاڑیوں کی چارجنگ سہولت سے آراستہ کرنا لازمی ہوگا۔ کھلی جگہ پر پارکنگ کی اجازت نہیں ہوگی اور تمام پارکنگ عمارت کے تہہ خانے یا بالائی منزلوں میں ہی تعمیر کی جائے گی۔پالیسی کے مؤثر نفاذ کے لیے حکومت نے ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ محکمہ کے انتظامی سیکریٹری کی سربراہی میں ایک یونین ٹیریٹری سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے، جس میں سری نگر اور جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹیز، ٹاؤن پلاننگ، ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا، ناردرن ریلوے، این ایچ اے آئی، ٹریفک پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی نئے ٹی او ڈی مراکز کی منظوری، مختلف اداروں کے درمیان تال میل، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور مخصوص ٹی او ڈی فنڈ کے استعمال کی ذمہ دار ہوگی۔پالیسی میں لینڈ ویلیو کیپچر کا نیا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت اضافی تعمیراتی حقوق حاصل کرنے والے ڈیولپرز کو مقامی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے مخصوص فیس ادا کرنا ہوگی۔ یہ رقم صرف متعلقہ ٹرانزٹ علاقوں میں سڑکوں، عوامی ٹرانسپورٹ، شہری سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر خرچ کی جائے گی۔