ریاستی درجے کی بحالی کا وعدہ پورا کرنے کا وقت آ گیا ہے// نائب وزیر اعلیٰ
سرینگر//جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے کہا ہے کہ نیشنل کانفرنس کی جانب سے 20 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کو لے کر مجوزہ احتجاج ہر حال میں ہوگا، خواہ اس کے لیے اجازت ملے یا نہ ملے۔ انہوں نے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنی تحریک جاری رکھتے ہوئے اپنی صحت کا بھی خاص خیال رکھیں۔یو این ایس کے مطابق سرینگر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے سریندر چودھری نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے لیے مرکزی حکومت کے وعدے پر 21 ماہ تک انتظار کیا، لیکن جب وعدہ پورا نہیں ہوا تو پارٹی نے احتجاج کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا، “ہم نے اجازت اس لیے مانگی ہے کیونکہ یہ ایک جمہوری ملک ہے۔ اگر اجازت ملتی ہے تو بھی ہمارا پروگرام برقرار رہے گا اور اگر اجازت نہیں ملتی تب بھی ہمارا احتجاج اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق ہوگا۔”نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 20 جولائی کا احتجاج مرکزی حکومت کو پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور انتخابی مہم کے دوران کیے گئے اس وعدے کی یاد دلانے کے لیے ہے کہ اسمبلی انتخابات کے بعد جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی بے روزگاری کے مسئلے کے حل کے لیے بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق والدین نے بڑی محنت سے اپنے بچوں کو تعلیم دلائی ہے، لیکن نوجوان آج بھی روزگار سے محروم ہیں۔سریندر چودھری نے نیشنل کانفرنس کی سیاسی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت جدوجہد اور قربانیوں کی بنیاد پر قائم ہوئی ہے اور اس کا سرخ پرچم انہی قربانیوں کی علامت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگست 2019 سے پہلے کا جموں و کشمیر شیخ محمد عبداللہ اور نیشنل کانفرنس کے وڑن کی عکاسی کرتا تھا۔انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ مہاراجہ ہری سنگھ کے سب سے بڑے حامی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، انہیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ وہ اسی جماعت کے ساتھ کیوں کھڑے ہیں جس نے ریاست کو تقسیم کیا، ریاستی درجہ ختم کیا اور آئین کی دفعات 370 اور 35 اے کو منسوخ کیا۔یو این ایس کے مطابق بی جے پی کی جانب سے آؤٹ سورسنگ اور دیگر مسائل پر احتجاج کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ “مگرمچھ کے آنسو” ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بی جے پی پہلے جموں و کشمیر میں اپنے 11 سے 12 برس کے دورِ حکومت کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرے۔انہوں نے کہا کہ 2014 میں بی جے پی کو مکمل اختیارات اور خصوصی حیثیت والی ریاست ملی تھی، جبکہ 2024 میں نیشنل کانفرنس کو ایک ایسا مرکز کے زیر انتظام علاقہ ملا جس کے اختیارات محدود اور بے روزگاری وسیع پیمانے پر موجود ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ بی جے پی اپنے دورِ حکومت میں ڈیلی ویجرز، این وائی سیز، این آر ایچ ایم، آشا ورکرس، آنگن واڑی ورکرس، رہبرِ کھیل، رہبرِ جنگلات اور دیگر زمروں کے ملازمین کو مستقل کیوں نہ بنا سکی۔سونم وانگچک کے جاری احتجاج کے بارے میں سریندر چودھری نے کہا کہ وہ ایک باوقار سماجی کارکن ہیں جن کا نام ملک اور دنیا میں جانا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وانگچک نے جن مسائل کو اٹھایا ہے، وہ نوجوانوں اور طلبہ کے مستقبل سے جڑے ہوئے ہیں اور ان پر سنجیدگی سے توجہ دی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وہ سونم وانگچک سے صرف یہ گزارش کرتے ہیں کہ وہ اپنی صحت کا بھی خیال رکھیں، کیونکہ ان کی صحت بھی اہم ہے اور ان کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل کا حل بھی اتنا ہی ضروری ہے۔










